خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 390
خطابات شوری جلد دوم ۳۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء با قاعدہ طور پر جلسہ جو بلی کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے نصب کروانے کی درخواست کی جائے۔“ بحث کے بعد نمائندگان مشاورت نے کثرتِ رائے سے یہ تجویز پاس کی کہ جماعت احمدیہ کا کوئی جھنڈا ہونا چاہئے۔اس موقع پر حضور نے فرمایا: - پس میں بھی اکثریت کے حق میں فیصلہ دیتا ہوں کہ جھنڈا ہونا چاہئے۔مگر میری رائے میں خلاف رائے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔شیخ صاحب دین صاحب کا خیال نہایت ہی لطیف اور قابلِ غور تھا۔ہم اُس کو چاہے غلط قرار دے دیں مگر میرے نزدیک وہ نہایت لطیف تھا اور ضرور اس قابل ہے کہ ہم اُس پر غور کریں۔یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے یعنی ہمیں اس کے ثبوت مل سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کے دنوں میں جھنڈا استعمال کیا اور اس کی تیاری کی چنانچہ لڑائی کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا اور ڈنڈا منگوایا اور اس سے جھنڈا تیار کیا۔تو اس کا یہ جواب دینا کہ ملکانہ کے موقع پر ہمارا جھنڈا تھا یا خدام الاحمدیہ کا جھنڈا ہوا کرتا ہے غلط ہے۔یہ کوئی مجلس شوری کے فیصلہ پر منحصر نہیں تھا۔اگر ایسا ہو تو ہم مجلس شوریٰ میں معاملہ پیش کرنے کی بجائے ہر معاملہ کے لئے ملکانے پہنچ جایا کریں۔پس ملکانہ یا خدام الاحمدیہ کا عمل جماعت کے لئے دلیل نہیں ہو سکتا۔خدام الاحمدیہ تو جماعت کے افراد کا ایک حصہ ہیں اور ان میں بھی بالعموم نو جوان ہیں۔پس ان کا فعل با وجود اس کے جائز بھی ہو تو بھی جماعت کے لئے سند نہیں۔میر محمد الحق صاحب نے جو حدیث بیان کی ہے وہ بھی اس مسئلہ کو حل کرتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا کو جنگ کے ساتھ خاص نہیں کیا۔چنانچہ حضور نے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر وعظ کیا۔دوسرے امر کے متعلق مجھے اچھی طرح یاد نہیں غالباً عمرہ کے متعلق ہے یا ممکن ہے حج کے متعلق ہو لیکن وہ بھی سند ہو جاتی ہے کہ جھنڈا جنگ کے اوقات کے بغیر بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔جھنڈے کی افادیت اور اہمیت تعجب ہے کہ اس معاملہ میں وہ لوگ نہیں بولے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کے انڈیکس تیار کئے ہیں۔اگر اب بھی وہ دوست یہاں ہوں اور انہیں یاد ہو تو بیان کر