خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 389

خطابات شوری جلد دوم تین چار ہزار کی بچت ہے۔“ ۳۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء اس موقع پر حضور نے محکمہ سے سوال کیا کہ صدرانجمن کے کارکن کتنے ہیں؟ جواباً ڈیڑھ سو عرض کیا گیا۔فرمایا : - ” میرے اصول سے تحریک جدید میں انتہائی تنخواہ بتیس روپے ہے۔پس اس لحاظ سے ۵۷۶۰۰ روپے صدرانجمن کے کارکنوں کی تنخواہ بنے گی اور ہمارا موجودہ بجٹ کارکنوں کا تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار ہے لیکن سب کی تنخواہ بتیس روپے نہیں ہوگی کیونکہ یہ تو انتہائی تنخواہ ہے۔مگر بہر حال جو انہوں نے سکیم کو سمجھا ہے کہ بتیس روپے ہر ایک کے لئے مقرر ہیں تو اس لحاظ سے بھی بہت سا فرق پڑ گیا ہے لیکن بات یہ ہے کہ انہوں نے مجھ سے مشورہ نہیں لیا ور نہ میں انہیں تفصیل سے بتا دیتا۔تو یہ غلطی ہوئی ہے کہ بغیر سکیم کو سمجھنے کے فیصلہ دے دیا ہے۔ابھی اس کے بہت سے حصے میرے دماغ میں ہی تھے۔دوسرے انہوں نے یہ بھی نہیں سمجھا کہ یہاں تو اصول سے مراد ہے۔یہاں تو آئندہ بھرتی کا سوال تھا کہ آئندہ اس اصول پر کارکنوں کی بھرتی کی جائے۔میں نے کہاں لکھا ہے کہ موجودہ کارکنوں کو نکال دیا جائے۔مدارس کی جو مشکلات کہی گئی ہیں وہ بھی درست نہیں۔درحقیقت وہاں یہ سوال نہیں تھا کہ موجودہ بجٹ کو بدل دیا جائے بلکہ سوال تو یہ تھا کہ اس اصول کو بدل دیا جائے اس کے ذریعے سے نظام میں خرابی یا روپے میں دقت نہیں آتی تھی۔پس آئندہ کے لئے جو تغیر تھا اس میں کمی ہونی تھی زیادتی نہ تھی۔نچلے حصے کے گزارے اس طرح بڑھ جائیں گے اور اوپر کے کم ہو جائیں گے۔میرا اندازہ تھا کہ موجودہ حالات کے لحاظ سے دس ہزار کی بچت ہوگی لیکن فوری فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اب جو کارکن اس کے ماتحت لئے جانے تھے وہ بہت تھوڑے تھے لیکن آئندہ اگر ایسا ہو تو ہمارے پاس امکان ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے بوجھوں کو کم کریں۔اب بھی اگر چہ میں نے اعلان کیا ہوا ہے کہ کارکنوں کے لئے کوئی تنخواہ مقرر نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ یکطرفہ بیان ہے کارکنوں کا اور میرا معاہدہ نہیں ہے۔“ جماعت احمدیہ کا جھنڈا سب کمیٹی پروگرام جو بلی نے اپنی رپورٹ میں یہ تجویز پیش کی کہ ”جماعت احمدیہ کا کوئی مناسب جھنڈا مقرر کیا جائے جسے