خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 25
خطابات شوری جلد دوم ۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء صدر انجمن کے ناظر دیانت داری سے قسم کھا کر یہ کہہ دیں کہ تعلیمی ادارے سارے دن میں پانچ منٹ بھی ان سکیموں کے ماتحت کام کرتے ہیں جو میں جماعت کے سامنے پیش کر چکا ہوں تو میں ان کی بات ماننے کے لئے تیار ہوں۔میں سمجھتا ہوں اِن اداروں میں کام کرنے والے کم از کم پچاس فیصدی ایسے ہیں جو ان سکیموں کی طرف لڑکوں کو کوئی توجہ نہیں دلاتے اور خود کوئی توجہ نہیں کرتے اسی لئے میں نے تحریک جدید کا بورڈ نگ علیحدہ بنایا ہے۔میں سمجھتا ہوں ابھی تک اس کے وہ نتائج نہیں نکلے جو نکلنے چاہئیں اور ان سے بھی شا کی ہوں مگر ایک حد تک وہ عمدگی سے چل رہے ہیں۔گو وہی لوگ جن کی میں شکایت کر رہا ہوں اس بورڈنگ اور ہر اُس تجویز کی جو تحریک جدید کے ماتحت میں نے جاری کی ہے اندر ہی اندر مخالفت کر رہے ہیں اور اس کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔اس وقت کس بات کی ضرورت ہے یا درکھو اس وقت ہم میدانِ جنگ میں ہیں اور میدان جنگ میں چلنا پھرنا برداشت نہیں کیا جا سکتا بلکہ دوڑنا چاہئے۔اس وقت ضرورت تھی اس بات کی کہ جماعت کے بچے بچے کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی کہ ہم اسلام کے لئے قربان ہونے والی بھیڑ میں اور بکریاں ہیں اور ہم اس بات کے لئے تیار ہیں کہ ہماری گردنوں پر چُھری چلا دی جائے۔پھر انہیں رات اور دن یہ بتایا جاتا کہ مغرب کے مذبح پر اپنے آپ کو قربان نہیں کرنا بلکہ مغرب کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازہ پر لا کر ذبح کرنا ہے۔یہ روح ان میں پیدا کرنی چاہئے تھی مگر ہمارے تعلیمی اداروں نے نہیں کی اور سالہا سال سے ناظروں نے اپنے اداروں کا معائنہ نہیں کیا۔پھر مبلغین ہیں ان کی حالت مدرسوں اور استادوں سے بھی زیادہ قابل افسوس ہے۔تبلیغ کا کام کرنے کے لئے ان کا انتخاب اس لئے نہیں کیا جاتا کہ ان میں دوسروں کی نسبت دین کی روح اور قربانی کا مادہ زیادہ پیدا ہو چکا ہے بلکہ اس لئے کہ ان کا کوئی لحاظ مد نظر ہوتا ہے۔ان کو جو سرٹیفکیٹ دیئے جاتے ہیں وہ 99 فیصدی حقیقت سے خالی ہوتے ہیں حالانکہ مبلغ ایسے ہونے چاہئیں جن میں دین کی روح دوسروں کی نسبت زیادہ قوی اور طاقتور ہو اور وہ دین کے لئے ہر وقت قربان ہونے کے لئے تیار ہوں۔وہ ملک کے ایک سرے سے