خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 24
خطابات شوری جلد دوم ۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء نتائج کو ہم کس طرح دیکھ سکتے ہیں جن کے دیکھنے کے ہم امید وار ہیں۔کیا ایک مفلوج اور شل ہاتھ بھی کچھ کر کے دکھا سکتا ہے؟ سکول اور کالج کی حالت اسی طرح میں دیکھتا ہوں جو سکیمیں اور تجویزیں پاس کی جاتی ہیں ،صدر انجمن ان پر عمل کرنے کے لئے اقدام نہیں کرتی۔افراد کر لیتے ہیں لیکن انجمن غافل رہتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سکول اور کالج اور طرف جا رہے ہیں اور جماعت اور طرف۔مثلاً عملہ رکھتے ہیں تو ایسا نہیں رکھا جاتا کہ جس میں سے ہر ایک کی نگاہ اور کان ہر وقت خلیفہ کی طرف لگا رہے۔پچاس فیصد ی عملہ ایسا ہے کہ جو خلیفہ کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ایسے لوگوں کے سپر د اپنے بچوں کو کر کے ماں باپ کس طرح تسلی پاسکتے ہیں اور ان بچوں میں وہ روح فکر کیونکر پیدا ہوسکتی ہے جنہیں یہ احساس ہو کہ دُنیا میں کیا ہو جائے گا اور جب تک یہ نہ ہو قطعا ترقی حاصل نہیں ہوسکتی۔کچھ دن ہوئے مجھے کسی نے اطلاع دی کہ دینیات کے کالج اور مدرسہ کے بعض لڑکے داڑھی منڈاتے ہیں حالانکہ ہم یہ قانون بنا چکے ہیں کہ ہائی سکول کے لڑکے بھی داڑھی رکھیں۔جب میں نے متعلقہ دفتر کو توجہ دلائی تو مجھے جواب دیا گیا کہ ان لڑکوں کو تنبیہہ کر دی گئی ہے، وہ آئندہ داڑھی رکھیں گے مگر سوال یہ ہے کہ کیا پڑھانے والے مدرس اور پروفیسر نا بینا ہیں؟ یہ سوال نہیں تھا کہ آئندہ کیا ہو گا بلکہ سوال یہ تھا کہ اس وقت تک کیا ہوتا رہا اور کیوں ہوتا رہا ہے؟ کہاں تھی صدر انجمن ، کہاں تھے ناظر، کہاں تھے ہیڈ ماسٹر اور کہاں تھے مدرس ؟ پھر جو کچھ ہوا اُس پر کیا ایکشن لیا گیا؟ کیا ہیڈ ماسٹر سے جواب طلب کیا گیا ؟ اگر اس شکایت کا تعلق سکول سے تھا تو کیا اُسی شان سے جواب طلب کیا گیا جس کا تقاضا یہ معاملہ کرتا تھا؟ اور اگر اس کا تعلق کالج سے تھا تو کیا جامعہ کے پرنسپل سے جواب طلب کیا گیا ؟ اور اُسی شان سے کیا گیا جو ضروری تھی ؟ اگر آئندہ بننے والے مبلغ اپنی شکل بھی ویسی نہیں بنا سکتے جیسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے ہیں تو انہوں نے اسلام کی تبلیغ کیا کرنی ہے۔وہ جواب یہ ظاہر کرتا تھا کہ اس معاملہ کی اہمیت نہ نظارت تسلیم کرتی ہے اور نہ جامعہ والے اور نہ مدرسہ احمدیہ والے۔سوال تو یہ تھا کہ یہ بات کیوں جاری رہی؟ اگر وہ میرے احکام کی کوئی قیمت سمجھتے تھے اور اگر انہیں مجھ سے تعاون کرنے کا احساس تھا۔اگر