خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 26

خطابات شوری جلد دوم ۲۶ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء دوسرے سرے تک لٹو کی طرح چکر لگائیں لیکن مجھے یہی نظر آتا ہے کہ پانچ سے دس پھر دس سے پندرہ اور پندرہ سے ہیں اور بیس سے تیس مبلغ ہو گئے ، مگر یہی شکایت آتی رہی ہے کہ ہمارے ہاں مبلغ نہیں آتے صرف بڑی بڑی جماعتوں میں آتے ہیں اور اب میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ درست ہے۔پھر انتخاب کے وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ مبلغ کا کام مباحثات کرنا نہیں بلکہ دین اور تقویٰ قائم کرنا ہے۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سادگی کو دیکھا ہے۔میں بچہ تھا مگر مجھے یاد ہے ہم آپ کا چہرہ دیکھ کر سمجھتے کہ معلوم نہیں آپ سوال کا جواب دے سکیں گے یا نہیں مگر جب جواب دیتے تو سائل کو مطمئن کر کے خاموش کر دیتے۔پس ہمیں وہ تیز طرار مبلغ نہیں چاہئیں جو خم ٹھونک کر میدانِ مباحثہ میں نکل آئیں اور کہیں آؤ ہم سے مقابلہ کر لو۔ایسے مبلغ آریوں اور عیسائیوں کو ہی مبارک ہوں ہمیں تو وہ چاہئیں جن کی نیچی نظریں ہوں جو شرم و حیا کے پتلے ہوں، جو اپنے دل میں خوف خدا رکھتے ہوں، لوگ جنہیں دیکھ کر کہیں کہ یہ کیا جواب دے سکیں گے۔ہمیں اُن فلسفیوں کی ضرورت نہیں جو مباحثوں میں جیت جائیں بلکہ اُن خادمانِ دین کی ضرورت ہے جو سجدوں میں جیت کر آئیں۔اگر وہ مباحثوں میں ہار جائیں تو سو دفعہ ہار جائیں۔ہمیں اس کی کیا ضرورت ہے کہ زبانیں چٹخارہ لیں مگر ہمارے حصہ میں کچھ نہ آئے۔سر جنبش کریں اور ہم محروم رہیں۔میں مانتا ہوں کہ اس میں بیرونی جماعتوں کا بھی قصور ہے۔وہ لکھتی ہیں کہ فلاں مبلغ کو بھیجا جائے ، فلاں کا آنا کافی نہیں کیونکہ وہ چٹخارہ دار زبان میں بات نہیں کر سکتا۔یہ صحیح ہے مگر لیڈر وہ ہوتا ہے جو لوگوں کو پیچھے چلائے نہ کہ لوگ جدھر چاہیں اُسے لے جائیں۔جو شخص تقویٰ و طہارت پیدا کرتا ہے جو قلوب کی اصلاح کرتا ہے وہی حقیقی مبلغ ہے لیکن جو یہ سمجھے کہ میں نوکر ہوں اور جو وہاں جائے جہاں اُسے حکم دیا جائے ایسے کو ہم نے کیا کرنا ہے۔اسے تو کل اگر کہیں اس سے اچھی نوکری مل گئی تو وہاں چلا جائے گا۔ہمیں وہ مبلغ چاہئیں جو اپنے آپ کو ملازم نہ سمجھیں بلکہ خدا تعالیٰ کے لئے کام کریں اور اُسی سے اجر کے متمنی ہوں۔جو ایسا نہیں کرتا وہ ہمارا مبلغ نہیں بلکہ ہمارے دشمن کا مبلغ ہے، وہ شیطان کا مبلغ ہے کیونکہ اُس کو تقویت دے رہا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ، حضرت موسی علیہ السلام نے ، حضرت عیسی علیہ السلام نے کون سے مبلغ رکھے ہوئے 1