خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 23
خطابات شوری جلد دوم ۲۳ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء صدرانجمن سے شکایت تعاون کے متعلق مجھے پہلے مرکز سے شکایت ہے۔میں دیکھتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ صدر انجمن مجھ سے وہ تعاون نہیں کر رہی جس کی اس وقت ضرورت ہے۔مثلاً یہی کہ اسی مجلس مشاورت میں یہ بحث ہو چکی ہے کہ جب تک ہم عورتوں کی تعلیم کو اسلام کے مطابق نہ کر دیں گے اُس وقت تک کامیابی نہ ہوگی۔اس پر بڑے زور شور سے اظہارِ خیالات کیا گیا، عورتوں کی تعلیم کے متعلق سکیم تیار کی گئی اور یہ قرار دیا گیا کہ یہ ضروری نہیں کہ ہم اپنی لڑکیوں کو انٹرنس کا امتحان دلائیں سوائے اُن کے جو ڈاکٹری وغیرہ کے لئے آگے جانا چاہیں مگر آج تک صدر انجمن احمد یہ نے اس پر قطعاً عمل نہیں کیا حالانکہ اس پر یہ تیسرا سال گزر رہا ہے۔اور میں سمجھتا ہوں اگر آج اس تقریر میں یہ ذکر نہ آجاتا اور اس کا کوئی نتیجہ نہ ہوگا تو دس سال تک بھی اس طرف توجہ نہ کی جاتی اور دس سال کے بعد کہ دیا جاتا کہ تعلیمی کورس بنا رہے ہیں۔پھر میں سال کے بعد بھی یہی کہا جاتا اور تیس سال کے بعد بھی یہی، مگر ایسے بنانے اور سوچنے کو کیا کرنا ہے جو کبھی ختم ہی نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی کا یہ شعر ایسے ہی مواقع پر پڑھا کرتے تھے۔جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم ترے ایسے پیار پر پس اس سوچ اور غور وفکر کو ہم نے کیا کرنا ہے کہ جب اسلام شکست کھا کر لوٹ رہا ہو اُس وقت وہ کام شروع کیا جائے۔اگر صدر انجمن سمجھتی کہ وہ خلیفہ کا بازو ہے، خلیفہ کے احکام کی تعمیل کرنا اُس کا فرض ہے، خلیفہ افسر اور وہ اس کے ماتحت ہے، خلیفہ استاد اور وہ شاگرد ہے تو اس فیصلہ کی تعمیل آج سے کئی سال پہلے ہو چکی ہوتی مگر فیصلے ہوتے ہیں جو رڈی کاغذ کی ٹوکری میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔میں نے صرف اتناسُنا ہے کہ انٹرنس کے کورس میں کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں مگر ان کا کوئی فائدہ نہیں۔اتحادِ خیالات کے لئے ضروری ہے کہ ہم عورتوں کے خیالات ایک نقطہ پر لے آئیں لیکن جب وہ موجودہ طریق تعلیم کو بدلنا موت سمجھتے ہوں، اس میں تبدیلی کرتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہوں اور پھر جب مرکزی ادارہ ہی دماغ کے ماتحت چلنے اور اس کے تجویز کردہ طریق پر کام کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو ان