خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 22

خطابات شوری جلد دوم ۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء مجھے ایک نہایت مخلص جماعت دی ہے اور آپ لوگوں میں اتنا اخلاص ہے کہ جس کا نمونہ کسی اور جگہ نہیں مل سکتا۔اس نقطہ نگاہ کے نہ پیدا ہونے کی وجہ سے کہ آپ لوگ شاگرد ہیں اور خلیفہ اُستاد ہے، پھر پڑھ لینے کے بعد تم استاد ہو اور دوسرے لوگ شاگرد، وہ کامیابی نہیں حاصل ہو رہی جو ہونی چاہئے۔اس کے مقابلہ میں ایک ایک دن جو گزر رہا ہے ہمارے لئے زیادہ سے زیادہ مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ایک گزرنے والے دن ہم جس قدر زمانہ نبوت سے قریب ہوتے ہیں دوسرے دن اُس سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔بظاہر تو یہ نظر آ رہا ہے کہ ہم ہر روز ترقی کی طرف جا رہے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہم روز بروز ساحل عافیت سے دُور ہوتے جا رہے ہیں۔جن کوششوں، محنتوں اور قربانیوں سے کل ہم اپنے مقصد اور مدعا میں کامیاب ہو سکتے تھے آج ان سے زیادہ کی ضرورت ہے کیونکہ کل ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے جس قدر قریب تھے آج اُس سے دور ہیں۔پس تم لوگ اس ظاہری کامیابی اور شان و شوکت کو نہ دیکھو جو نصیب ہو رہی ہے۔یہ مت دیکھو کہ کل جہاں ایک سو احمدی تھے، وہاں آج ایک ہزار ہو گئے ہیں اور یہ مت خیال کرو کہ کل جہاں سے چندہ ایک ہزار آتا تھا ، آج دو ہزار آتا ہے بلکہ یہ سمجھو کہ خدا تعالیٰ کی برکت کل ہمیں کتنی حاصل تھی اور آج کتنی حاصل ہے۔کیا کل جتنی ہی ہے یا آج کم ہے؟ یقینا ہر گزرنے والا دن اسے کم کرتا جا رہا ہے۔اس کے لئے یہی صورت ہے کہ ہم اپنی جدو جہد کو بڑھاویں تا کہ جو کمی روحانی طور پر ہورہی ہے اس کا ازالہ اپنی جدو جہد میں اضافہ کر کے کر سکیں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ جو باتیں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ میں پوری ہو سکتی ہیں، وہ سال بھر میں بھی نہیں ہوتیں۔ہمیں اس سے کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ فلاں سکیم پیش کی گئی ہے جبکہ اُس پر عمل نہ کیا جائے۔میں نے تعاون نہ کرنے کے متعلق شکایت کی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدانخواستہ جماعت میں اخلاص نہیں۔اخلاص ہے مگر جب تک جماعت کے لوگ اس نقطہ کو نہ سمجھیں گے کہ ان کا تعلق مجھ سے شاگرد کا ہے اور وہ دُنیا کے استاد ہیں، اُس وقت تک ترقی نہ کر سکیں گے اور اگر وہ اس نکتہ کو سمجھ لیں گے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز ترقی کرتے جائیں گے۔