خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 349

خطابات شوری جلد دوم ۳۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء کے زمانہ میں اس قسم کے لوگ تھے تو اب کیوں نہیں ہو سکتے۔آپ آخر یہی کہتے ہیں کہ جب قرآن کریم موجود ہے اور ہم سب اس پر ایمان لا چکے ہیں تو کسی اور کے آنے کی کیا ضرورت ہے مگر قرآن کریم ہی بتاتا ہے کہ بعض لوگ منہ سے ایمان کا دعویٰ کرنے کے با وجود مومن نہیں ہوتے۔پس یا تو مسلمان قرآن کریم کی اس بات کا انکار کر دیں اور یا ماننا پڑے گا کہ محض منہ کی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔پھر اگر امت محمدیہ اُسی طرح بگڑ جائے جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بعض لوگ تھے تو کیا ایسے لوگوں کے علاج کے لئے کوئی انتظام ہونا چاہئے یا نہیں اور چونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ ایسے لوگ ہوتے رہیں گے ، اس لئے ضروری ہے کہ ان کے معالج بھی آتے رہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسی لئے مبعوث ہوئے ہیں کہ آپ پھر مسلمانوں کو اسلام پر قائم کریں اور رسمی مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بنا ئیں۔تو حقیقت یہ ہے کہ صداقت ایک دوسرے سے پروئی ہوئی ہوتی ہے اور جو مضمون اس کی ایک آیت میں بیان ہوتا ہے، وہی اس کے دوسرے مقامات میں بھی بیان ہوتا ہے۔پس قرآن کریم میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں کافی مصالحہ موجود ہے اور ان میں ان مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے جو ہمارے سلسلہ کو پیش آنے والی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ آپ نے غور نہیں کیا اور آپ ان مشکلات کو خیالی سمجھتے ہیں اور میں نے پورا غور کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ خیالی باتیں نہیں بلکہ حقیقی ہیں۔اور اگر آپ ان مشکلات میں سے نہ گزرے تو آپ کی اولادوں کو ان میں سے گزرنا پڑے گا لیکن آپ کی اولادیں اسی صورت میں اس امتحان میں کامیاب ہوسکتی ہیں جب آپ آج سے ہی اپنی ذہنیت کو بدل لیں اور اپنے آپ کو مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کر لیں۔اگر آپ پوری تیاری کر لیں اور اپنی ذہنیت کو بدل کر اس رنگ میں ڈھل جائیں جس رنگ میں انبیاء کی جماعتیں ہوتی ہیں تو یقیناً آپ کی اولادوں کو فائدہ پہنچے گا اور وہ ان مشکلات کے امتحان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہو جائیں گے۔اس کے بعد میں دعا کر دیتا ہوں اور مجلس کو برخواست کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ ان تمام امور پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے جن کو میں نے بیان کیا ہے اور اپنی