خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 350

خطابات شوری جلد دوم ۳۵۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء اولا دوں اور اپنے خاندانوں کے دلوں میں بھی ان کو پورے طور پر داخل کرنے کی کوشش کریں گے اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں گے کہ احمدیت کوئی سوسائٹی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا اور ایک نبی کی قائم کردہ جماعت ہے۔پس ضروری ہے کہ جن حالات میں سے پہلے انبیاء کی جماعتیں گزریں، انہی میں سے ہماری جماعت بھی گزرے اور پھر جس طرح انہیں کامیابی حاصل ہوئی اسی طرح ہماری جماعت کو بھی کامیابی حاصل ہو۔“ ممبران مجلس مشاورت کے غور و فکر کے لئے بعض تجاویز اس مضمون میں حضور نے نمائندگان مجلس مشاورت اپریل ۱۹۳۸ء کے غور و فکر کے لئے اپنی طرف سے بعض تجاویز پیش کیں جو ایجنڈا مجلس میں شائع کر دی گئیں تا کہ ممبران اپنی جماعتوں سے ان کے بارہ میں اچھی طرح استصواب کر کے مجلس میں شامل ہوں۔جماعت کا بجٹ کئی سال سے لگا تار غیر متوازن چلا آ رہا تھا۔ہر سال اخراجات، آمد سے بڑھ جاتے ہیں۔حضور نے تفصیل سے حالات کا جائزہ لے کر یہ تجاویز تحریر فرمائیں تا کہ مجلس میں غور و فکر کے بعد بجٹ کو متوازن بنانے کے لئے فیصلے کئے جاسکیں۔” اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ ممبران مجلس شوری ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ میں کچھ عرصہ سے اس امر پر غور کر رہا ہوں کہ ہمارا مالی نظام ایسی صورت پر چل رہا ہے کہ باوجود کوشش کے آمد و خرچ برابر نہیں ہو سکے اور بظاہر نہیں ہو سکتے۔قریباً ۱۹۲۰ء سے ہماری مالی تنگی اسی رنگ میں چلی آ رہی ہے۔اور گو عارضی طور پر بعض دفعہ تنگی میں کمی آئی ہو لیکن پھر جلد ہی صورت حالات پہلے جیسی یا پہلے سے بھی خراب ہوتی رہی ہے۔اس عرصہ