خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 348
خطابات شوری جلد دوم ۳۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء جی چاہا تو سٹرک پر بیٹھ رہے اور اگر کسی نے وہاں سے بھی اُٹھا دیا تو اُٹھ کر آگے چل پڑے۔یہی انبیاء کی جماعتوں کا حال ہوتا ہے۔قو میں اُن سے دشمنی کریں ، حکومتیں ان کی مخالفت کریں اور یہ کہہ دیں کہ تم چندہ وصول نہیں کر سکتے تو اُن کا نظام ایسا ہو کہ اس میں کوئی خلل واقع نہ ہو اور وہ آپ ہی آپ چلتا چلا جائے۔آخر گورنمنٹ نے کانگرس کے اموال پر قبضہ کر لیا تھا یا نہیں۔پھر اگر کسی وقت حکومت ہمیں بھی چندہ جمع کرنے سے روک دے اور کہہ دے کہ اگر تم چندہ جمع کرو گے تو یہ جُرم ہوگا تو اُس وقت ہم کیا کر سکتے ہیں۔ایسی صورت میں صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ ہمارا نظام ایسا ہو کہ ہم کہیں بہت اچھا اگر چندہ جمع نہیں کرنے دیتے تو نہ سہی ہم اس کے بغیر بھی ترقی کر سکتے ہیں۔مگر بات یہ ہے کہ آپ لوگ ان چیزوں کو خیال سمجھتے ہیں اور میں انہیں حقیقی سمجھتا ہوں۔اسی لئے میں نے آپ لوگوں سے کہا ہے کہ آپ قرآن کریم پڑھیں پھر آپ کو خود بخو د نظر آ جائے گا کہ جو کچھ میں نے کہا ہے وہی صحیح ہے کیونکہ قرآن جس صداقت کو بیان کرتا ہے اُسے ایک ہی دفعہ بیان نہیں کر دیتا بلکہ مختلف آیتوں میں بیان کرتا ہے اور گو بعض دفعہ مضمون بہت باریک ہو جاتا ہے مگر پھر بھی اس مضمون کا مختلف آیات سے استنباط ہو جاتا ہے۔میں نے اس کے متعلق ایک مثال بھی کئی دفعہ سنائی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے آپ سے ایک ضروری بات پوچھنی ہے۔میں نے کہا پوچھئے۔وہ کہنے لگا قرآن کریم سے حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا کوئی ثبوت پیش کریں۔میں نے کہا سارا قرآن ہی آپ کی صداقت کا ثبوت ہے۔وہ کہنے لگا کوئی ایک آیت پیش کریں۔میں نے کہا کہ میں نے تو کہہ دیا ہے کہ سارا قرآن ہی آپ کی صداقت کا ثبوت ہے۔پس آپ کوئی آیت پڑھ دیں میں اس سے آپ کی صداقت ثابت کر دوں گا۔وہ کہنے لگا اچھا قرآن میں آتا ہے وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنین ۳ آپ اس سے حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت کریں۔میں نے کہا دیکھو اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اس رنگ میں ثابت ہوتی ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ تھے جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے تھے مگر دراصل مومن نہیں تھے۔اگر محمد صلی اللہ علیہ وآ