خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 336
۳۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم موجودہ عملہ کیا اگر موجودہ عملہ سے دس گناہ زیادہ بھی رکھ لیا جائے تو وہ کافی نہیں ہوسکتا۔کیا تم سمجھتے ہوں کہ تربیت کوئی معمولی چیز ہے۔تربیت ایک نہایت ہی اہم چیز ہے۔حتی کہ گورنمنٹ نے یہ قانون بنایا ہوا ہے کہ جب سکول کی کسی کلاس میں چالیس پچاس سے زائد لڑکے ہو جائیں تو اُن کا ایک الگ فریق بنا دیا جائے اور الگ استادوں کی نگرانی میں اُن کو رکھا جائے۔پھر اگر اسی نسبت سے ہم اپنی جماعت کے متعلق غور کریں تو تم خود ہی اندازہ لگا لو کہ ہمیں کس قدر آدمیوں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔مگر اتنے آدمیوں کا خرچ ہم کہاں برداشت کر سکتے ہیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم وہی طریق اختیار کریں جو انبیاء کی جماعتیں اختیار کرتی ہیں۔یعنی مطالبہ کریں کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے کا شوق رکھتے ہیں وہ آئیں اور اپنے اوقات کی قربانی کر کے لوگوں کی تربیت کریں۔مرکزی مبلغ کا کام پر امید رکھنا کہ واعظوں اور مبلغوں کے ذریعہ تمام کام ہوسکتا ہے صحیح نہیں۔واعظ کا کام صرف نگرانی کرنا ہے۔اور مبلغ اپنے حلقہ میں ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ضلع میں ڈپٹی کمشنر۔اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ دورہ کرے اور لوگوں کو اپنے تجربہ سے آگاہ کرے۔لیکن تبلیغ کے لئے زیادہ تر مقامی اصحاب ہی مفید ہوتے ہیں۔اگر جماعتیں مختلف مقامات پر معمولی مدر سے کھول دیں اور لوگوں کو پڑھانا شروع کر دیں تو اس ذریعہ سے ہی کافی تبلیغ ہو سکتی اور نئی پود احمدیت کے اثر سے متاثر ہو سکتی ہے۔اسلام میں جو مصلح گزرے ہیں انہوں نے بالعموم اسی رنگ میں کام کیا ہے۔اہلِ حدیث کی ترقی کا راز اہلِ حدیث کی تمام ترقی اسی اصول پر ہوئی ہے۔وہ اپنے ہم عقیدہ لوگوں کو حدیثیں پڑھاتے اور پھر کہتے کہ جاؤ اور مدر سے کھول لو۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ان کی تعداد ایک کروڑ بتائی جاتی ہے حالانکہ ان کو شروع ہوئے ابھی ایک ہی صدی ہوئی ہے۔ابتداء میں ان کی جس قدر مخالفت تھی اُس کا پتہ اس سے لگ سکتا ہے کہ فیروز پور کے ایک دوست نے سنایا ہے کہ ایک دفعہ نماز پڑھتے ہوئے کسی اہلِ حدیث نے بلند آواز سے آمین کہہ دی اس پر لوگوں نے نماز توڑ کر اُسے جوتیاں مارنی شروع کر دیں لیکن آج اہلِ حدیث ایک بہت بڑی طاقت ہیں اور کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔اخباروں سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر لوگ اہلِ حدیث