خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 335
خطابات شوری جلد دوم ۳۳۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء جاتی ہے اُس کی آئندہ نسلیں بھی بہادر ہی رہتی ہیں اور وہ قوم جو بُز دل ہو اُس کی نسل بھی بہادری کے کام نہیں کر سکتی۔آج کشمیریوں کو بُزدل سمجھا جاتا ہے لیکن اگر اُن پر ایسے مصائب آئیں کہ وہ لڑنے مرنے کے لئے تیار ہو جائیں تو اُن کی آئندہ نسل بہادر بن جائے گی۔اسی طرح آج اگر ہم میں سے ہر شخص قربانیوں کے لئے تیار رہتا ہے ہم میں سے ہر شخص یہ سوچتا رہتا ہے کہ نہ معلوم جس وقت کا مجھے انتظار ہے وہ آج شام کو آ جائے یا کل صبح کو تو وہ اگر مر بھی جائے تو اللہ تعالیٰ اُس کے اس عمل کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ اُس کی اولاد کے دل میں وہ وہی جرات پیدا کر دے گا جو اُس کے دل میں تھی اور اس کی اُمنگیں خدا تعالیٰ اُس کی اولاد کے ذریعہ پوری کر دے گا۔اِلَّا مَا شَاءَ اللهُ۔استثناء ہر جگہ ہوتا ہے لیکن عام قانون یہی ہے کہ جب کوئی قوم اپنے اندر کمال پیدا کر لیتی ہے تو اس کے بعد ورثہ کے طور پر اُس کے کمالات آئندہ نسلوں میں پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پس اگر کسی کے دل میں اخلاص ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی اولا د کو ویسے ہی کاموں کی توفیق دے دیتا ہے اور اس طرح اس کی خواہش اور آرزو پوری ہو جاتی ہے۔سو اگر کسی کو بینائی نصیب نہیں اور وہ موجودہ حالات میں آئندہ کے واقعات کو نہیں دیکھ سکتا تو میں اُسے کہوں گا کہ جاؤ اور قرآن کریم پڑھو اور اندھوں کی طرح اُس کی آیتوں پر سے مت گزرو۔تم جاؤ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کا مطالعہ کرو مگر نابینوں اور بہروں کی طرح ان پر سے مت گز رو۔تم ان دونوں کو دیکھو اور پھر سوچو کہ کیا وہاں یہ لکھا ہے کہ تمہیں کانٹوں کے بستر پر سونا پڑے گا۔اگر تمہیں یہ دکھائی دے کہ وہاں یہی لکھا ہے کہ تمہارے لئے پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کے بستر تیار کئے گئے ہیں اور میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم اُس دن کے لئے تیاری کرو ایسا نہ ہو کہ جب تمہارے سامنے یا تمہاری اولا دوں کے سامنے وہ قربانی کے مطالبات آئیں تو تم فیل ہو جاؤ اور کہو کہ ان پر عمل ہم سے نہیں ہوسکتا۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارے دوست جب بھی غور کرتے ہیں وہ روپیہ اور بجٹ کے چکر میں ہی رہتے ہیں ان سے باہر نہیں جاتے۔حالانکہ یہ بالکل حقیر چیزیں ہیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ جس قسم کی اصلاحات کا نفاذ ہمارے لئے ضروری ہے اُس قسم کی اصلاحات کے لئے