خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 313

خطابات شوری جلد دوم ۳۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء غلبہ احمدیت سے قبل مصائب آئیں گے دنیا میں دو شاہدوں کی گواہی پر عدالت قتل کی سزا تک دے دیتی ہے اور میں تو جو شاہد پیش کر رہا ہوں اُن سے بڑھ کر اور کوئی شاہد ہو ہی نہیں سکتا۔آپ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کو پڑھیں اور دیکھیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے کیا بیان کیا ہے کہ جب تھوڑی بہت ترقی حاصل ہوگئی تو مصیبت کا زمانہ ختم ہو جائے گا؟ یا یہ بیان کیا ہے کہ اس زمانہ تک کہ جماعت کو تمام دنیا پر غلبہ تام حاصل نہیں ہو جا تا مشکلات پر مشکلات آئیں گی اور مصائب پر مصائب برداشت کرنی پڑیں گی۔یہاں تک کہ حضرت موسی علیہ السلام کی قوم کو جو تکالیف پہنچیں، حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کو جن مصائب میں سے گزرنا پڑا اسی طرح اور انبیاء کی جماعتیں جن مشکلات کے دور میں سے گزریں وہ تمام مشکلات اور تمام مصائب جماعت احمدیہ کو بھی برداشت کرنی پڑیں گی۔اور اگر ان الہامات سے یہی ظاہر ہوتا ہے تو آپ لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ کہہ کر کہ مصیبت کوئی نہیں آپ کا نفس آپ کو دھوکا دے رہا ہے اور آپ لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ ابھی آپ کے لئے بڑے بڑے ابتلاء مقدر ہیں اور در حقیقت میری زبان اُن خطرات کو بیان کرنے سے بالکل قاصر ہے جو ہماری جماعت کو پیش آنے والے ہیں کیونکہ اگر تصریحاً اُن خطرات کا اظہار کر دیا جائے تو دشمن پہلے سے بھی زیادہ ہوشیار اور دلیر ہو جائے اور اُسے معلوم ہو جائے کہ میری خفیہ تدابیر کا اِن کو علم ہو چکا ہے۔اسی وجہ سے مجھے اختفاء سے کام لینا پڑتا ہے تا دشمن کو یہ معلوم نہ ہو کہ اُس کے منصوبوں کا ہمیں علم ہے۔ابتلاؤں کے مقابلہ کے لئے تبدیلی کی ضرورت لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر ہماری جماعت خدا کی طرف الصلوة سے ہے اور مجھے تو یقین ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کے الہامات صحیح ہیں اور مجھے تو یقین ہے کہ وہ صحیح ہیں اور اگر قرآن کریم جو کچھ کہتا ہے وہ صحیح ہے اور مجھے تو یقین ہے کہ اس نے جو کچھ کہا وہ صحیح ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس قسم کی زندگی کے دور میں سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں یہ ہرگز ہمارے مناسب حال نہیں اور اس میں ایک عظیم الشان تبدیلی کی ضرورت ہے۔جب تک ہم وہ تبدیلی نہیں کریں