خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 312
خطابات شوری جلد دوم ۳۱۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ہے اور بظاہر اگر ہم دور بینی سے کام نہ لیں تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ معمولی باتیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ معمولی باتیں نہیں بلکہ ایک لمبی زنجیر کی کڑی ہیں۔پس میں جماعت کو ان خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے اندر وہ وسعت نظر پیدا کرو جس سے تمہیں معلوم ہو سکے کہ آئندہ تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ڈ نیوی لوگوں کے لئے یہ مشکل ہوتی ہے کہ وہ کہتے ہیں نہ معلوم آئندہ کے متعلق ہمارا جو اندازہ ہے وہ وہم ہے یا حقیقت۔اُن میں سے ہر شخص جو اپنے مستقبل پر غور کرتا ہے وہ اس شش و پنج میں مبتلا رہتا ہے کہ نہ معلوم میرے خواب، میری عقل کی خرابی کا نتیجہ ہیں یا آئندہ واقعات کا صحیح نقشہ ہیں اور بسا اوقات اُس کے لئے کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے مگر آپ لوگوں کے لئے یہ فیصلہ کرنا بالکل آسان ہے۔ایک منٹ کے لئے آپ ان تمام ترقیات کو بُھول جائیں جو اب تک آپ کو حاصل ہوئیں ، ایک منٹ کے لئے آپ بھول جائیں اس امر کو کہ آپ کے گردو پیش کے لوگ آپ کے متعلق کیا کہتے ہیں، آپ پُھول جائیں اس بات کو کہ آپ لوگوں میں سے کوئی شخص کسی معزز عہدے پر فائز ہے یا نہیں۔آپ بُھول جائیں اس بات کو کہ دشمن اس وقت کیا کر رہا ہے یا کیا کہہ رہا ہے بلکہ میں کہتا ہوں آپ اپنے نفس کو بھی بھول جائیں اور صرف اتنا کام کریں کہ ایک شاہد سے جو نہایت ہی عظیم الشان ہے دریافت کریں کہ ہمارا مستقبل کیا ہے؟ وہ شاہد قرآن کریم ہے، وہ خدا تعالی کی کتاب ہے۔اس سے پوچھیں کہ نبیوں کی جماعتوں کا مستقبل کیا ہوتا ہے اور پیشتر اس کے کہ خدا تعالیٰ کی تائید انہیں دنیا کا حاکم اور بادشاہ بنا دے، ان جماعتوں کی حالت کیا ہوتی ہے؟ اگر قرآن کریم یہ شہادت دے کہ انبیاء کی جماعتوں پر عظیم الشان مصائب آیا کرتے ہیں تو آپ لوگ سمجھ لیں کہ اگر آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ لوگوں کے لئے کوئی مصائب مقدر نہیں تو آپ کا نفس آپ کو دھوکا دے رہا اور صحیح راستہ سے آپ کو منحرف کر رہا ہے۔پھر اس شاہد تک بس نہیں میں ایک اور شاہد بھی پیش کرتا ہوں جو یہی گواہی دے رہا ہے اور وہ شاہد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات ہیں۔