خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 314

خطابات شوری جلد دوم ۳۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء گے آنے والے مصائب کا ہم مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے متواتر ہم کو جگایا گیا اور اس نے اپنے عمل سے ہم کو بتا دیا ہے کہ سلسلہ کے سامنے کتنی اہم مشکلات ہیں اور اگر ان مصائب میں کچھ وقفہ پڑا ہے تو اس لئے کہ ہم اس وقفہ میں آئندہ رونما ہونے والی مشکلات کے لئے تیار ہو جائیں۔خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ جب وہ اپنے مامورین کی جماعت کو صدمات اور مصائب پہنچا تا ہے تو درمیان میں کچھ وقفے بھی دے دیتا ہے تا وہ صدمات اس کو بالکل ٹچل نہ دیں اور تا اس کے دل میں یہ حسرت نہ رہے کہ اگر مجھے موقع ملتا تو میں اور زیادہ تیاری کر لیتا۔اگر متواتر ہے۔مصائب ہی مصائب وارد ہوتی ہی جائیں تو سوائے ناکامی کے اور کیا حاصل ہوسکتا۔ایک شخص کو گرا کر اُس کی چھاتی پر اگر کوئی دوسرا شخص چڑھ بیٹھے اور اُس کا گلا گھونٹنا شروع کر دے اور مسلسل گھونٹتا چلا جائے تو وہ کس طرح بچ سکتا ہے۔لیکن اگر کسی طرح اوپر کا شخص نیچے جا پڑے اور جو نیچے پڑا ہوا تھا وہ اُس کے سینہ پر چڑھ جائے تو اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ وہ بیچ رہے کیونکہ اُسے زور آزمائی کے لئے موقع مل جاتا ہے۔لیکن اگر یہ دوسرے کی چھاتی پر بیٹھ کر مطمئن ہو جاتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ اب دوسرا مجھے نیچے نہیں گر ا سکتا اور ہم نے اسے شکست دے دی تو یہ بیوقوفی کا مرتکب کہلائے گا کیونکہ جب بھی وہ اطمینان کا سانس لے گا دوسرے کے حملہ سے غافل ہو جائے گا اور اس غفلت سے فائدہ اٹھا کر دشمن اُس پر پھر حملہ آور ہو جائے گا۔تو درمیانی دور مطمئن کرنے کے لئے نہیں آتے بلکہ اس لئے آتے ہیں کہ قوم کو تازہ دم کر کے اور زیادہ مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کر دیں۔مگر کئی نادان ہیں جو اس کی وجہ سے غفلت میں پڑ جاتے ہیں حالانکہ درمیانی وقفے اس لئے آتے ہیں تا لوگ تیاری کر لیں اور جب مصائب آجاتی ہیں تو دراصل وہ نقشہ ہوتی ہیں اُن حالات کا جو پس پردہ ہوتے ہیں۔میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک جماعت میں یہ روح اس رنگ میں پیدا نہیں ہوئی جس رنگ میں میں پیدا کرنا چاہتا ہوں۔