خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 258

۲۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم کے ساتھ پھیل رہی ہے لیکن باوجود ان سب باتوں کے وہ شباب جو پچاس سال کی عمر میں ایک قوم کو حاصل ہونا چاہئے وہ ابھی ہمیں حاصل نہیں ہوا۔ابھی ہمارے کاموں میں کوتا ہیاں اور کمزوریاں ہیں اور جس میدان کربلا میں سے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم گزریں اس میں ابھی دلیری سے داخل نہیں ہوئے۔ابھی کئی ہیں جو شیر گدوانے والے کی طرح ہر بار جب سوئی لگتی ہے تو کہہ اُٹھتے ہیں کہ اسے چھوڑو اور آگے چلو حالانکہ حقیقی قربانی کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہو سکتی۔کئی نادان ہیں جو جماعت کی موجودہ ترقی سے ہی خوش ہیں اور اسی پر فخر کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے جتنا بڑھنا تھا بڑھ لیا۔اب تبلیغ کی بجائے وہ تفرقہ یدا کرتے اور طعن و تشنیع سے کام لیتے ہیں اور ایسی باتوں میں پڑ گئے ہیں جو غالب قو میں کیا کرتی ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ مصیبت زدہ آدمی کبھی ان باتوں میں نہیں پڑا کرتا۔جس ماں کا بچہ مرا ہوا پڑا ہو اسے گھر میں بکھری ہوئی چیز میں نظر نہیں آیا کرتیں۔دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ تکیہ فلاں جگہ پڑا ہے اور برتن فلاں جگہ، گھر میں کوئی صفائی نہیں مگر وہ ماں جس کا بچہ مرا ہوا پڑا ہے اُسے ان نقائص میں سے کوئی بھی نظر نہیں آتا۔تو ہم لوگ جن کے سامنے اسلام ایسی نازک حالت میں پڑا ہے ایسی ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کو کب دیکھ سکتے ہیں۔اور اگر کسی کو ایسی باتیں نظر آتی ہیں تو اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ اسے اسلام سے وہ تعلق نہیں جو ماں کو بچہ سے یا بچہ کو ماں سے ہے۔کسی سمجھدار بچہ کی ماں بیمار ہو تو اُس کے دل کی کیفیت بھی ایسی ہوتی ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو نہیں دیکھ سکتا۔ایسی باتوں پر ہمیشہ انہی لوگوں کی نگاہیں پڑا کرتی ہیں جن کے سامنے کوئی صدمہ یا مقصد نہیں ہوتا۔کیا لڑائی کے موقع پر بھی کوئی شخص شیشہ لے کر بال سنوارا کرتا ہے۔گھر میں تو ایسا کرتے ہیں مگر لڑائی کے موقع پر نہیں۔بعض لوگ جو فارغ ہوں چاقو لے کر اپنے ناخنوں کے کنارے ٹھیک کرتے ہیں یا ولایتی سیٹ سے انہیں درست کرتے رہتے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں ہوگا کہ لڑائی کے موقع پر کوئی ایسا کرتا ہو۔اُس وقت صرف ایک ہی بات زیر نظر ہوتی ہے اور وہ یہ کہ دشمن مقابلہ پر کھڑا ہے اگر میں نے اسے مغلوب نہ کیا تو یہ مجھے مغلوب کر لے گا۔پس جن کے دلوں میں اسلام کی اس نازک حالت کو دیکھ کر تڑپ پیدا ہوتی ہے وہ ایسی باتوں پر دھیان نہیں دے سکتے۔غرض ہم میں بعض ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو جماعت کی موجودہ