خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 257

خطابات شوری جلد دوم ۲۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء تعداد پچیس تیس ہزار ضرور ہوگی اور میں نے سُنا ہے کہ وہاں مردم شماری کی رپورٹ میں جماعت کی تعداد پچیس ہزار درج ہے۔یہ افریقہ کے وہ علاقے ہیں جہاں اسلام اپنی شان و شوکت کے زمانہ میں بھی نہیں پہنچا تھا۔اسلام کو وہاں پہنچے ابھی ایک سو سال سے کم ہی ہوا ہے۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے وہاں اسلام کا ذریعہ یہ بنا ہے کہ وہاں کی ایک قوم جو ہاؤسا کہلاتی ہے اُس کے افراد تجارت کے لئے الجزائر کی طرف آئے تھے ، وہاں سے انہوں نے اسلام سیکھا اِسی طرح بعض عرب تاجر گئے اور ان کے ذریعہ اسلام پھیلا۔اکثر آبادی اس ملک کی قریب زمانہ تک بت پرست تھی۔اسی طرح دُنیا کے اور گوشوں میں بھی احمدیت خدا تعالیٰ کے فضل سے پھیلتی جا رہی ہے۔یورپ کے مختلف ممالک میں یہ آہستہ آہستہ روشناس ہو رہی ہے اور گو ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہاں پھیل رہی ہے کیونکہ جس حد تک اسلام ان لوگوں کے اندر ابھی آیا ہے۔اسے دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ماسوا چند افراد کے مومن ہیں۔مگر اس میں شک نہیں کہ اسلام سے ہمدردی رکھنے والے اور منہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے ضرور پیدا ہو رہے ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ قَالَتِ الْأَعْرَابُ امَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلكِن قُولُوا اسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ في قُلُوبِكُمْ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہیں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔ہاں استمنا کہنا چاہئے۔فرمایا کہ تم ظاہراً اسلام تو لے آئے ہو مگر ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا لیکن ظاہری اسلام بھی دشمن کو کمزور کرتا اور دوستوں کی صف کو مضبوط کرتا ہے۔ان لوگوں کا ماحول ایسا ہے کہ اسلام کی تعلیم پر استقلال کے ساتھ قائم نہیں ہو سکتے۔بہر حال یہ تحریک شروع ہے اور جب یہ زور پکڑے گی خود بخود ایسی جماعت پیدا ہو جائے گی جو استقلال کے ساتھ اسلام کی تعلیم پر عمل پیرا ہو گی۔ابھی ان کے رستہ میں کئی قسم کی مشکلات ہیں۔دوسرے مسلمان ہم پر تو اعتراضات کرتے ہیں مگر عمل اسلام پر خود نہیں کرتے۔مثلاً عورت سے مصافحہ کرنے کا حکم نہیں۔یہ لوگ مصافحہ کر لیتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے مصافحہ نہ کرنے کو تنگدلی پر محمول کیا جاتا ہے۔انہیں یہ معلوم نہیں کہ اسلام کے حکم کو یہ لوگ توڑتے ہیں اور اس سے ہمارے رستہ میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔پھر مشرق کی طرف خصوصاً جاوا اور سماٹرا میں جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے سُرعت