خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 259
۲۵۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم حالت پر ہی فخر کرتے ہیں اور ایسی باتوں میں پڑ گئے ہیں حالانکہ ہم ابھی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔آٹے میں نمک کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے مگر ہم دُنیا میں اس سے بھی کم ہیں اور اس وجہ سے ہمارے لئے بہت زیادہ فکر کی بات ہے کیونکہ ابھی ہم اس مقام پر نہیں پہنچے جس پر پہنچ کر تو میں محفوظ ہوتی ہیں۔دُنیا میں سب سے چھوٹی قوم سکھوں کی ہے مگر ہم ابھی ان کا نصف بلکہ ایک چوتھائی بھی نہیں ہیں حالانکہ سکھ قوم عالمگیر نہیں وہ صرف پنجاب میں پائے جاتے ہیں یا اس کے آس پاس کے علاقوں میں قلیل تعداد میں ہیں مگر ہماری تعداد ان کے مقابلہ میں بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور ایسی کمزور حالت میں کسی ایسی قوم کے افراد کا قانع ہو جانا جن کے سامنے دُنیا کو فتح کرنے کا مقصد ہو نہایت ہی افسردگی کی بات ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ اس قوم کا حوصلہ بہت ہی کم ہے۔بعض لوگ لڑائی میں شامل ہوتے ہیں مگر جب ذرا فتح کے آثار ظاہر ہوں تو جھٹ لڑائی کا خیال چھوڑ کر مال غنیمت کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور نتیجہ وہی ہوتا ہے جو جنگ احد کے موقع پر ہوا۔جنگ حنین میں بھی ایسا ہی ہوا۔یعنی بعض کمزور لوگوں نے اصل مقصد کو بُھلا دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ بجائے فتح کے شکست ہوگئی۔ہماری جماعت کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ جس کام کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ اتنا بڑا ہے کہ ابھی ہم اُس کا کروڑواں حصہ بھی نہیں کر سکے اور جس مقام پر پہنچ کر خطرات سے محفوظ ہو سکتے ہیں اُس سے ابھی منزلوں پیچھے ہیں۔کیا بلحاظ جماعتی نظام کے اور کیا بلحاظ تربیت افراد کے۔نظام کے لحاظ سے ہم جماعت سے ویسا عمل بھی نہیں کرا سکتے جیسا چوہڑے اور چمار کرا لیتے ہیں۔اُن کی بھی پنچائتیں ہوتی ہیں اور وہ اپنے افراد سے اپنے تمام احکام منوا لیتی ہیں لیکن ہم میں بعض لوگ ابھی ایسے ہیں کہ اُن کو ذراسی سزا بھی دی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ چھوڑو ہم اپنی برادری میں واپس چلے جاتے ہیں۔مگر چوہڑے چماروں میں سے جس کسی کو سزا دی جائے وہ اسے قبول کر لیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس برادری کو چھوڑ کر وہ اور کہیں نہیں جاسکتا۔مگر ہمارے لوگ مختلف برادریوں سے نکل کر آئے ہیں اس لئے ان میں سے جو کمزور طبائع ہیں فوراً اپنی برادری میں واپس جانے کو تیار ہو جاتے ہیں لیکن چوہڑا چمار جسے سزا دی جاتی ہے وہ چونکہ سمجھتا ہے کہ میری برادری یہی