خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 245
خطابات شوری جلد دوم ۲۴۵ مشاورت ۱۹۳۷ء جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس آدمی چُن کر کھڑے کئے تھے اور حکم دیا تھا کہ خواہ جنگ کی کوئی حالت ہو تم نے اس درّہ کو نہیں چھوڑنا۔جب کفار کا لشکر منتشر ہو گیا تو ا انہوں نے غلطی سے اجتہاد کیا کہ اب ہمارے یہاں ٹھہرے رہنے کا کیا فائدہ ہے ہم بھی چلیں اور غنیمت کا مال حاصل کریں۔چنانچہ اُن میں سے سات آدمی دڑہ چھوڑ کر چلے آئے اور صرف تین پیچھے رہ گئے۔اُن کے سردار نے اُنہیں کہا بھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے کہ ہم یہ درہ چھوڑ کر نہ جائیں مگر اُنہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ مطلب تو نہ تھا کہ فتح ہو جائے تب بھی یہیں کھڑے رہو۔آپ کے ارشاد کا تو یہ مطلب تھا کہ جب تک جنگ ہوتی رہے درہ نہ چھوڑو۔اب چونکہ فتح ہو چکی ہے اس لئے یہاں ٹھہرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔حضرت خالد بن ولید جو اُس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے نوجوان تھے اور اُن کی نگاہ بہت تیز تھی وہ جب اپنے لشکر سمیت بھاگے چلے جا رہے تھے تو اتفاقاً اُنہوں نے پیچھے کی طرف نظر جو ڈالی تو دیکھا کہ درہ خالی ہے اور مسلمان فتح کے بعد مطمئن ہو گئے ہیں۔یہ دیکھتے ہی اُنہوں نے لشکر میں سے چند آدمی منتخب کئے اور اُس درّہ کی طرف سے چڑھ کر یکدم مسلمانوں کی پشت پر حملہ کر دیا۔مسلمانوں کے لئے یہ حملہ چونکہ بالکل غیر متوقع تھا اس لئے اُن پر سخت گھبراہٹ طاری ہوگئی اور بوجہ پکھرے ہوئے ہونے کے دشمن کا مقابلہ نہ کر سکے اور میدان پر کفار نے قبضہ کر لیا۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گر دصرف ۱۲ صحابہ رہ گئے۔جن میں حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی تھے اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ ۱۲ بھی نہیں صرف چند آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گر درہ گئے اور کفار نے خاص طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تیر اندازی شروع کر دی۔صحابہ نے اُس وقت سمجھا کہ اب ہماری خاص قربانی کی ضرورت ہے۔چنانچہ حضرت زبیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ کی طرف کھڑے ہو گئے تا اُس طرف سے کوئی تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آ کر نہ لگے اور حضرت طلحہ آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور اُنہوں نے اُس جگہ جہاں سے تیر گزر کر آتے تھے اپنا ہاتھ رکھ دیا تا کہ تیر اُن کے ہاتھ پر لگیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم تک کوئی تیر نہ پہنچ سکے۔اسی طرح اور صحابی بھی و