خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 246
۲۴۶ مشاورت ۱۹۳۷ء خطابات شوری جلد دوم ار در گرد کھڑے ہو گئے۔چونکہ اُس وقت تیروں کی سخت بوچھاڑ ہو رہی تھی اس لئے جس قدر صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد کھڑے تھے، وہ گردن سے لیکر زانو ؤں تک تیروں سے زخمی ہو گئے اور ایک انچ جگہ بھی ایسی نہ رہی جہاں اُنہیں تیر نہ لگا ہو اور حضرت طلحہ کا ہاتھ تو تیر لگتے لگتے بالکل شل ہو گیا اور ساری عمر کے لئے ناکارہ ہو گیا۔بعد میں وہ ایک جگہ کسی مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک منافق نے اُن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس ٹھنڈے کی یہ بات ہے۔حضرت طلحہ نے یہ سُن کر کہا تمہیں پتہ ہے میں کس طرح ٹھنڈا ہوا ؟ پھر اُنہوں نے اُحد کی جنگ کا قصہ سُنایا اور بتایا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے اپنا ہاتھ پھیلائے کھڑا رہا اور جو تیر بھی آیا وہ میں نے اپنے ہاتھ پر لیا یہاں تک کہ تیروں کی بوچھاڑ نے اسے شل کر دیا۔کسی نے کہا آپ اُس وقت درد سے کراہتے نہ تھے؟ وہ کہنے لگے میں درد سے کس طرح کراہ سکتا تھا اگر کراہتا تو میرا جسم ہل جاتا اور تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لگ جاتا۔جب دشمنوں کی تیراندازی بھی رائیگاں گئی تو اُنہوں نے یکدم ریلہ کر دیا اور وہ ۱۲ آدمی بھی دھکیلے گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زخمی ہو کر ایک گڑھے میں گر گئے۔آپ پر بعض اور صحابہ جو آپ کی حفاظت کر رہے تھے شہید ہو کر گر گئے اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑی دیر کے لئے نگاہوں سے اوجھل ہو گئے اور لشکر میں یہ افواہ پھیل گئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔یہ سُن کر بعض کمزور تو مدینہ کو واپس چلے گئے کہ وہاں کے لوگوں کو اطلاع دیں اور باقی صحابہ میدانِ جنگ میں گھبرائے گھبرائے پھرنے لگ گئے۔حضرت عمرؓ پر اس خبر کا یہ اثر ہوا کہ آپ ایک چٹان پر بیٹھ کر رونے لگ گئے۔اُس وقت بعض صحابہ ایسے بھی تھے جنھیں اس امر کی اطلاع نہ تھی کیونکہ وہ فتح کے بعد ایک طرف ہو گئے تھے اور انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کفار نے دوبارہ حملہ کر دیا ہے۔انہی میں وہ صحابی بھی تھے جو ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اگر میں جنگ بدر میں شامل ہوتا تو یوں کرتا اور یوں کرتا۔اُنہیں اُس وقت بھوک لگی ہوئی تھی اور وہ ٹہلتے ٹہلتے کھجور میں کھا رہے تھے۔چلتے چلتے وہ حضرت عمر کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں۔گھبرا کر پوچھا کہ عمر یہ رونے کا کونسا مقام ہے؟ اسلام کو فتح حاصل ہوئی ہے اور آپ رو ر ہے ہیں حضرت عمر نے کہا تم کو پتہ نہیں