خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 244
۲۴۴ مشاورت ۱۹۳۷ء خطابات شوری جلد دوم ایک حصہ ایسا ہو جو تسبیح نہ کرتا ہو اور دعوے تو بہت بڑے کرتا ہو لیکن عملی قربانیوں میں سُست ہو تو بتاؤ تسبیح الہی کا نظارہ دُنیا کے انسانوں میں سے کون دکھائے گا۔پس إِلَّا مَا شَاءَ الله اگر کوئی کمزور ہو تو اُس کو چھوڑ کر تمہاری اکثریت ایسی ہونی چاہئے کہ اُس کے منہ سے جو الفاظ نکل جائیں وہ اٹل ہوں اور جو اقرار وہ کرے اسے ہر قربانی کر کے پورا کرنے والی ہو۔بہ پر اسلامی تعلیم کے اثرات صحابہ پر دیکھواس تعلیم کا کتا اثر ہوا۔انہوں نے یہاں تک اپنے وعدوں کو پورا کیا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اُن کی تعریف کرتا اور فرماتا ہے۔مِنْهُمْ مِّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مِّن ينتظر ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت نے ہماری اس نصیحت کوسُن کر ایسا عمل کیا ایسا عمل کیا کہ اُن میں سے بعض نے تو اپنے فرائض ادا کر دیئے اور بعض اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے پوری مستعدی سے تیار بیٹھے ہیں۔حدیثوں میں آتا ہے کہ یہ آیت خصوصیت سے ایک صحابی پر چسپاں ہوتی ہے اور اسی صحابی کا واقعہ اس آیت کا شانِ نزول ہے۔دراصل شانِ نزول کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اس واقعہ کی وجہ سے آیت نازل ہوئی بلکہ اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اس آیت کی زندہ مثال فلاں صحابی میں پائی جاتی ہے۔تو صحابہ اس آیت کے زندہ ثبوت کے طور پر ایک صحابی کا واقعہ پیش کیا کرتے تھے۔بدر کی جب جنگ ہوئی تو وہ صحابی اس میں شامل نہ ہو سکے۔جب جنگ ہو چکی اور انہیں معلوم ہوا کہ اس طرح کفار سے ایک عظیم الشان لڑائی ہوئی ہے، تو انہیں اپنے شامل نہ ہونے کا بہت ہی افسوس ہوا اور اِس کا اُن کی طبیعت پر ایسا اثر ہوا کہ اس کے بعد جب کسی مجلس میں بدر کی جنگ کا ذکر آتا اور وہ سنتے کہ فلاں نے یوں بہادری دکھائی اور فلاں نے اس طرح کام کیا تو وہ سنتے سنتے کہہ اُٹھتے ، اچھا کیا ، اچھا کیا لیکن اگر میں ہوتا تو بتاتا کہ کس طرح لڑا کرتے ہیں۔لوگ سُن کر ہنس دیتے کہ اب اس قسم کی باتوں کا کیا فائدہ۔مگر اُن کا جو جوش تھا وہ سچ سچ کا جوش تھا، کسی عارضی جذبہ کے ماتحت نہیں تھا بلکہ عشق و محبت کی وجہ سے وہ کُھلے جا رہے تھے اور انہیں یہ غم کھائے جارہا تھا کہ کاش! انہیں بھی خدا کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے کا موقع ملے۔آخر خدا تعالیٰ نے اُحد کی جنگ کا موقع پیدا کر دیا۔اس جنگ میں جب مسلمانوں نے کفار کے لشکر کو شکست دے دی اور ان کی فوجیں پراگندہ ہو گئیں تو ایک درہ تھا