خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 243

خطابات شوری جلد دوم ۲۴۳ مشاورت ۱۹۳۷ء ہو جاؤ۔اسی طرح تحریک جدید کے بقالوں کے متعلق بھی لوگوں کو جا کر کہو اور انہیں مجبور کرو کہ یا تو وہ اپنے بقائے ادا کریں اور اگر بقائے ادا کرنے سے معذور ہیں تو پھر معافی مانگ لیں۔میں فراخدلی سے اُنہیں معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔اس کے بعد اصولی طور پر اُن آیات کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو میں نے اس وقت تلاوت کی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سبح لله ما في السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔کہ اے انسان! تیرے سوا جتنی بھی مخلوق ہے وہ بلا استثناء تسبیح الہی کر رہی اور اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی ثابت کر رہی ہیں صرف ایک تیرا وجود ہی ہے جو استثناء رکھتا ہے، باقی سب اپنے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں۔یہاں تک کہ شیطان بھی اور فرشتے بھی اور نیچر بھی۔غرض زمین و آسمان کی کوئی چیز ایسی نہیں جو تسبیح نہ کر رہی ہو۔وَهُوَا لْعَزِيزُ الْحَكِيمُ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔یعنی دنیا ثبوت دے رہی ہے اس بات کا کہ خدا غالب ہے اور دنیا ثبوت دے رہی ہے اس بات کا کہ خدا حکمت والا ہے۔پھر فرماتا ہے يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ - كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ آن تَقُولُوا مَا لا تَفْعَلُونَ۔اب چونکہ صرف ایک انسان ہی ایسا رہ گیا تھا جس کے متعلق یہ سوال ہو سکتا تھا کہ وہ تسبیح کرتا ہے یا نہیں اس لئے فرماتا ہے تم جانے دو کافروں کو کہ وہ تسبیح الہی نہیں کرتے۔اُن سے اگر کہا بھی جائے گا تو وہ کہیں گے ہم خدا کو کب مانتے ہیں کہ اُس کی تسبیح کریں۔پس جب انسانوں میں سے بھی کا فرمستثنی ہو گئے تو تسبیح کرنے والے صرف مؤمن رہ گئے اور مومنوں کے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے کہ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ۔میرے جلال اور میری بڑائی کو دُنیا میں ظاہر کرنے کا صرف تم ہی ایک ذریعہ رہ گئے تھے مگر حالت یہ ہے کہ تم میں سے بھی ایک حصہ کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ۔اس صورت میں تو میری تسبیح انسانوں میں اور بھی محدود ہو گئی۔انسانوں کے ہوا تو زمین و آسمان میں جس قدر چیزیں ہیں وہ جب سے کہ دُنیا پیدا ہوئی تسبیح کر رہی ہیں اور انسانوں میں سے کفار یوں مستقی ہو گئے کہ وہ کہہ دیتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کے وجود اور اُس کی قدرتوں کو تسلیم ہی نہیں کرتے اس لئے فرماتا ہے اے مومنو! کم سے کم تم جو تھوڑے سے رہ گئے تھے تمہارا فرض تھا کہ تم اپنے عمل سے بتا دیتے کہ انسان بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کر رہا ہے لیکن اگر تم میں سے بھی