خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 240

خطابات شوری جلد دوم ۲۴۰ مشاورت ۱۹۳۷ء ہے۔وہاں کے اخباروں میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے متعلق نہایت اچھے مضامین شائع ہوتے ہیں اور وہاں کی اطلاع ہے کہ تو رائی بحیثیت جماعت ہمارے مرکز میں آتے اور سلسلہ کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ ان کی جماعت کی جماعت جلد ہی احمدیت میں شامل ہو جائے گی۔غرض تحریک جدید کے ماتحت تبلیغ احمدیت کے نہایت شاندار نتائج نکل رہے ہیں۔ہندوستان میں بھی ایک حد تک تبلیغ ہو رہی ہے لیکن چندوں کی ادائیگی کی رفتار بہت شست ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ تحریک جدید کا چندہ طوعی ہے جبری نہیں اور جب یہ طوعی ہے اور اس کا وعدہ کرنا ہر شخص کی اپنی مرضی پر منحصر ہے تو اپنی خوشی سے کئے ہوئے وعدہ کے پورا کرنے میں بھی اگر شستی پائی جائے تو کس قدر قابلِ افسوس ہے۔پہلے سال تحریک جدید کے چندہ کے متعلق ایک لاکھ دس ہزار کا وعدہ کیا گیا اور ۹۸ ہزار وصول ہوا۔گویا بارہ ہزار بقایا رہ گیا۔دوسرے سال ایک لاکھ سترہ ہزار کا وعدہ کیا گیا اور ایک لاکھ چھ ہزار وصول ہوا۔اس طرح دوسرے سال بھی گیارہ ہزار کا بقایا ہو گیا۔اب تیسرے سال کے لئے گو ایک لاکھ چوالیس ہزار کے وعدے ہو چکے ہیں اور ابھی اور وعدوں کی توقع ہے لیکن اس وقت تک وصولی بہت کم ہوئی ہے۔میرے اندازہ میں اس وقت تک باون ہزار سے اوپر آچکنا چاہئے تھا مگر وصول صرف ۳۱ ہزار ہوا ہے۔میں نے بار ہا توجہ دلائی ہے کہ تحریک جدید کا چندہ جلد سے جلد ادا کرنا چاہئے اور ابتدائی مہینوں میں ہی ادا کر دینا چاہئے۔مگر دوست اس کی ادائیگی میں پھر بھی غفلت سے کام لیتے ہیں۔اب میں نے اخبار میں ایک نوٹ لکھ کر جماعتوں کو پھر توجہ دلائی تو میں دیکھتا ہوں اس کا اثر ہو رہا ہے اور اب چندہ کی ادائیگی کی رفتار بڑھ رہی ہے مگر اتنی نہیں جس سے امید کی جا سکے کہ سال بھر میں تمام چندہ پورا ہو جائے گا حالانکہ اکثر دوستوں کے یہ وعدے تھے کہ وہ جون تک تمام رقم ادا کر دیں گے۔اگر طوعی اور اپنی مرضی کے چندوں میں بھی دوست اس قسم کی سستی دکھائیں تو جبری چندوں میں اُن کا تساہل کہاں تک پہنچ سکتا ہے۔پس میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان چندوں کی ادائیگی کی طرف خود بھی توجہ کریں اور اپنی اپنی جماعتوں میں جا کر دوسرے لوگوں کو بھی توجہ دلائیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے، جماعت میں اب آہستہ آہستہ تحریک ہو