خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 239

خطابات شوری جلد دوم ۲۳۹ مشاورت ۱۹۳۷ء چندہ تحریک جدید کی اہمیت تحریک جدید کے مطالبات کے سلسلہ میں میں ایک دفعہ پھر دوستوں کو چندوں کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔دوستوں نے در حقیقت اس کام کی عظمت کو ابھی سمجھا ہی نہیں جو تحریک جدید کے ماتحت خدا تعالیٰ کے فضل سے جاری ہے۔ان دو سالوں میں دُنیا کے دو براعظموں میں بڑے زور سے تبلیغ ہو رہی ہے اور اخراجات جو پہلے ہوا کرتے تھے اُن کا اب چوتھا یا پانچواں حصہ ہوتا ہے اور یہ بہت ہی معمولی خرچ ہے جس پر اس وقت کئی ممالک میں تبلیغ ہو رہی ہے۔مثلاً اس وقت تک تحریک جدید کے ماتحت جاپان میں دو مبلغ ، چین میں تین مبلغ ، سماٹرا بور نیو وغیرہ میں مبلغ ، سٹریٹ سیٹلمنٹس میں چار مبلغ اور جنوبی امریکہ میں ایک مبلغ کام کر رہا ہے۔اسی طرح سپین میں پہلے ہمارا ایک مبلغ کام کرتا رہا ہے مگر اب انہیں روم میں مقرر کیا گیا ہے۔گویا دو ملکوں میں تبلیغ ہوئی ہے۔پھر ہنگری میں اس وقت دو مبلغ کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک اب انشاء اللہ پولینڈ چلے جائیں گے۔اسی طرح ایک مبلغ یوگوسلاویہ میں ہے۔گویا تحریک جدید کے ماتحت پندرہ مبلغ اس وقت مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں۔جن میں سے بعض جگہ تو ایسی کامیابیوں کی بنیاد پڑ گئی ہے کہ جنہیں دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت خوش کن نتائج نکلنے کی توقع ہے۔چنانچہ ہنگری میں بہت بڑی کامیابی ہوئی ہے۔اسی طرح روم میں بھی جس طرز پر بنیاد پڑ رہی ہے وہ امید ہے بہت مفید ثابت ہوگی۔البانیہ اور یوگوسلاویہ میں چھ سات شخص احمدی ہو چکے ہیں اور ہنگری میں ایک سو ہیں افراد احمدیت میں شامل ہیں۔پین میں بھی کچھ جماعت قائم ہو چکی ہے اور سٹریٹ سیٹلمنٹس میں بھی۔لیکن ابھی تک چین اور جاپان میں ہماری جماعت قائم نہیں ہوئی اور یہ ضرور قابل تعجب امر ہے مگر اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ وہاں کی زبان بالکل مختلف ہے، اور اُس کے سیکھنے میں بھی ایک کافی عرصہ درکار ہوتا ہے۔بہر حال ان دو ممالک کو اگر نکال دیا جائے تو باقی ممالک میں اچھے نتائج پیدا ہو رہے یا اچھے نتائج نکلنے کے سامان ہو رہے ہیں اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلد ہی پندرہ سولہ نئے ممالک میں احمدیت قائم ہو جائے گی اور نے مشن تحریک جدید کے ماتحت کھولے جائیں گے۔تمام ممالک میں سے ہنگری میں سب سے زیادہ ترقی کے آثار ہیں حالانکہ ابھی ہمارا مشن قائم ہوئے وہاں ایک سال ہی ہوا