خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 241
خطابات شوری جلد دوم ۲۴۱ مشاورت ۱۹۳۷ء رہی ہے اور چندہ کی ادائیگی کی رفتار میں سُرعت پیدا ہو گئی ہے لیکن پھر بھی اس امر کی ضرورت ہے کہ جماعتوں کو بار بار توجہ دلائی جائے۔میں نے پچھلے سال یہ کہہ دیا تھا کہ جو شخص میعاد مقررہ میں چندہ نہیں دے گا بعد میں اُس کی طرف سے چندہ قبول نہیں کیا جائے گا۔لیکن اب تازہ اعلان میں یہ کرتا ہوں کہ جس نے گزشتہ کسی سال کا چندہ ادا نہیں کیا وہ ہم سے اس کی معافی لے لے یا وہ چندہ ادا کرے تا خدا تعالیٰ کے نزدیک گناہ گار نہ ہو۔اس لحاظ سے پہلے سالوں کا وہ روپیہ جو ۲۳ ہزار کے قریب ہے وہ بھی اس قابل ہے کہ دوست ادا کریں یا اس کے متعلق مجھ سے معافی لے لیں۔اگر تم وہ چندہ ادا نہیں کر سکتے تو تم ہمیں لکھ دو کہ ہمارے حالات اب ایسے ہو گئے ہیں کہ ہمارے لئے چندہ ادا کرنا مشکل ہے ہم تمہیں فراخدلی سے معاف کر دیں گے اور اگر چندہ ادا کر سکتے ہو تو ادا کرو۔بہر حال دونوں راستے تمہارے لئے کھلے ہیں۔اگر اس کے با وجود کوئی شخص محض عزت نفس کے لئے معافی طلب نہیں کرتا اور نہ چندہ ادا کرتا ہے تو گویا وہ خدا تعالیٰ کا گناہ گار ہونا تو پسند کرتا ہے لیکن یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ لوگ اُس کی طرف اُنگلی اُٹھا ئیں۔حالانکہ جب میں کسی کو معاف کر دوں تو دوسروں کا اُنگلی اُٹھانا یا کسی کو مطعون کرنا محض ظلم ہے۔میں جب کسی کو خوشی سے معاف کر دوں تو دوسرے کا کوئی حق نہیں کہ وہ پھر بھی دوسرے پر اعتراض رکھے۔پس میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ یہ نہایت ہی اہم کام ہے، ایک عظیم الشان سکیم ہے جو میرے مدنظر ہے۔اگر ان مطالبات میں ہی احباب سستی دکھانے لگے تو دوسرے مطالبات کس طرح پیش کئے جا سکتے ہیں۔امانت فنڈ اسی طرح امانت فنڈ کی طرف میں نے توجہ دلائی تھی، اُس میں بھی اب نستی ہو رہی ہے اور دوستوں کو چاہئے کہ اسے دور کریں۔سادہ زندگی اور ایک کھانا کھانے کے متعلق جو میری تحریک ہے اُس پر البتہ جماعت کا بیشتر حصہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے عمل کر رہا ہے گو کچھ نہ کچھ کمزور لوگ ہر جماعت میں موجود ہوتے ہیں۔اسی طرح عورتوں میں ابھی یہ مرض پایا جاتا ہے گو پہلے سے بہت کم ہے۔ایک دوست ایک دفعہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے سُنا ہے آپ کی بیوی کے پاس پانچ پانچ سو روپے کا ایک ایک جوڑا ہے۔میں نے کہا اگر چاہو تو ابھی تلاشی لے لو ، تمہیں معلوم ہو جائے