خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 212
خطابات شوری جلد دوم ۲۱۲ مشاورت ۱۹۳۷ء تو جسم میں جذب ہو جانے والی غذاؤں کی مالش کرتے ہیں۔مثلاً بادام روغن کی مالش کرتے ہیں، گھی کی مالش کرتے ہیں، نمک اور سونٹھ کی مالش کرتے ہیں اور اس طرح اُس کی طاقت کو بحال رکھتے ہیں۔تو ترجمہ اُن کے لئے ہے جو پوری غذا نہیں لے سکتے گو بعض اوقات ترجمہ اُن کے لئے بھی فائدہ کی بجائے نقصان کا موجب ہوسکتا ہے کیونکہ بعض دفعہ دشمن کی طرف سے اعتراض ایسے معنوں کی بناء پر ہو گا جو اس ترجمہ میں نہیں لکھے ہوں گے اور اس طرح وہ جواب دینے سے قاصر رہیں گے۔پس اصل طریق یہی ہے کہ انسان کسی ایسے اُستاد سے قرآن مجید پڑھے جو زمانہ کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر ان مطالب کو اُس کے سامنے لائے جن مطالب سے بالعموم اُس کا واسطہ پڑسکتا ہو۔در اصل ترجمہ کی مثال ایک ٹانک کی سی ہے، جیسے سپرٹ ایمونیا ایرومیٹک ہے ترجمہ بھی انسان کے لئے ایک ٹانک کا کام دے سکتا ہے۔اگر ہیضہ، چیچک اور بخار وغیرہ میں کسی مریض کو سپرٹ ایمونیا ایرومیٹک دیں گے تو اس سے اُس میں کچھ طاقت تو آ جائے گی مگر اس سے مرض کا علاج نہیں ہو گا۔غرض ترجمہ ایک ٹانک کا کام تو دے سکتا ہے مگر وہ روحانی بیماریوں کا علاج نہیں۔پس میں نے چاہا کہ دوستوں کی اس غلط فہمی کو دور کر دوں کہ ترجمہ کے بعد وہ قرآن مجید کسی اُستاد سے پڑھنے سے مستغنی ہو جائیں گے۔ترجمہ زیادہ سے زیادہ ٹانک کا کام دے سکتا ہے اور ٹانک دوا کا مُمد تو ہو سکتا ہے مگر دوا کا قائم مقام نہیں ہوسکتا۔اس کے مقابلہ میں اگر دوا ہو تو وہ ٹانک کا بھی قائم مقام ہو سکتی ہے۔بہر حال قرآن مجید کے اردو ترجمہ کا سوال قابل توجہ ہے اور اس کا شائع ہونا ضروری ہے۔ایک دوست کی طرف سے ایک تجویز آئی ہے، گو انہیں چاہئے تھا یہ تجویز بجٹ پر بحث کے دوران میں پیش کرتے مگر اُنہوں نے ایسا نہیں کیا اور چپکے سے میرے کان میں کہہ دیا۔وہ تجویز یہ ہے کہ میاں بشیر احمد صاحب نے سیرۃ النبی کی اشاعت کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اُسے مکمل کرا لیا جائے۔میں سمجھتا ہوں اس سیرت کی جہاں تک تکمیل ہوئی ہے اس کے لحاظ سے ضروری ہے کہ بقیہ حصہ بھی مکمل ہو جائے اور میں کوشش کروں گا کہ اگر مناسب انتظام ان کی جگہ ہو جائے تو میاں بشیر احمد صاحب کو فارغ کر دیا جائے تاکہ سیرۃ النبی کا کام مکمل ہو جائے۔