خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 213

خطابات شوری جلد دوم ۲۱۳ مشاورت ۱۹۳۷ء منارة امسیح کی سفیدی کی تلقین تیسری چیز جس کی طرف میں پبلک میں صدر انجمن احمد یہ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں گو اس سے پہلے میں دفا تر کو بار بار توجہ دلا چکا ہوں، لیکن اب پبلک میں اِس کا اِس لئے ذکر کرتا ہوں کہ ممکن ہے انہیں کچھ شرم آ جائے یا وہ کمیشن ہی اس کی طرف توجہ کرے جو دفاتر کے کاموں کے معائنہ کے لئے مقرر ہے یہ ہے کہ منارہ کی سفیدی مدتوں سے خراب ہو چکی ہے اور اب سفیدی اُتر جانے کی وجہ سے ڈر ہے کہ کچھ عرصہ میں وہ منارہ بیضاء کی بجائے منارہ سو داء نہ بن جائے۔اس غرض کے لئے آج سے دس سال پہلے چندہ ہوا تھا لیکن سفیدی اب تک ہونے میں نہیں آئی اور ہمارے ناظر اب تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ وہ سفیدی کس سے کرائیں۔دس سال کے اندر غالبا آگرہ کا تاج محل بھی بن گیا تھا مگر ہماری نظارت دس سال میں یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ وہ کس سے سفیدی کرائے۔سو اس کے لئے میں نظارت کو ہدایت دیتا ہوں کہ وہ منارۃ امسیح کی سفیدی کے متعلق ایک ہفتہ کے اندر اندر میرے پاس رپورٹ کرے اور ایک مہینہ کے اندر اندر کام شروع کیا جائے۔روپیہ جب موجود ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ جلد سے جلد کام شروع نہ کیا جائے اور منارہ کی سفیدی کا انتظام نہ کیا جائے۔منارہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس لئے بنایا تھا کہ تا ہر دیکھنے والا کہے کہ یہ وہی سفید منارہ ہے جس کے پاس مسیح موعود کے نزول کی احادیث میں خبر دی گئی تھی مگر اب تو اُسے دیکھ کر کوئی شخص سفید نہیں کہہ سکتا اور خواہ مخواہ اعتراض پیدا ہوتا ہے۔ہم جب دمشق میں گئے تو ہم نے فیصلہ کیا کہ وہ منارہ بیضاء بھی دیکھیں جس کے متعلق لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وہاں اُتریں گے۔ہم نے جب اُسے دیکھا تو اُس کا رنگ سفید نہیں تھا بلکہ بھوسلا تھا۔لوگوں سے ہم نے دریافت کیا کہ حدیثوں میں تو لکھا ہے مسیح موعود منارہ بیضاء کے پاس اُترے گا اور یہ منارہ بیضاء نہیں بلکہ بھوسلا منارہ ہے تو وہ کہنے لگے ہے تو بھوسلا مگر اسے سفید ہی سمجھ لیں۔ہم نے کہا حدیث میں تو منارہ بیضاء کے الفاظ آتے ہیں بھوسلا منارہ کے الفاظ تو نہیں آتے۔تو آخر یہی اعتراض یہاں بھی پیدا ہو سکتا ہے اور جو مجازی پیشگوئیاں ہوں اُن میں تھوڑے سے فرق سے بھی بات کہیں کی کہیں پہنچ جاتی ہے۔اب ہمارے مینارہ کو تو جو کوئی دیکھے گا یہی کہے گا کہ یہ منارہ بیضاء نہیں بلکہ ایک مٹیالا منارہ