خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 211
خطابات شوری جلد دوم ۲۱۱ مشاورت ۱۹۳۷ء لیکن زندہ نہیں کہلا سکتیں کیونکہ وہ زندہ سر چشمہ سے منقطع ہو چکی ہوتی ہیں۔ایک بچہ جس کی اس میں تصویر دکھائی جا رہی ہوتی ہے بڑا ہو چکا ہوتا ہے لیکن اس میں ابھی وہ بچہ ہی نظر آتا ہے۔تصویر دکھاتی ہے کہ وہ چھاتیوں سے دودھ پی رہا ہے حالانکہ اب وہ دو تین سیر گوشت ہضم کر جاتا ہے۔تو زندہ چیز زندہ کے ساتھ مل کر ایک نئی چیز پیدا کرتی ہے۔ترجمہ اگر ہو تو وہ زندہ نہیں کہلا سکتا لیکن جب پڑھنے والا سامنے ہو اور پڑھانے والا اُسے پڑھائے تو چونکہ وہ اُس کے سامنے ہوتا ہے، وہ ترجمہ اُس کے حالات کے مطابق کرتا اور اُس کی ضروریات کو دیکھ کر قرآن کریم کی تعلیم اُس کے سامنے پیش کرتا ہے۔ترجمہ کرنے والا بھلا کب ساری دُنیا کے خیالات کا اندازہ لگا سکتا ہے۔وہ تو ایک لفظ کا ایک ہی ترجمہ کرے گا۔حالانکہ عربی میں بعض دفعہ ایک ایک لفظ کے ساٹھ ساٹھ معنے ہوتے ہیں اور اُن ساٹھ معنوں میں سے بعض دفعہ قرآن مجید کی کسی آیت پر دس معنے چسپاں ہو جاتے ہیں اور پھر وہ دس معنے مختلف تشریحات کی وجہ سے سینکڑوں معارف کے حامل ہو جاتے ہیں اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ قرآن مجید کے سات بطن ہیں اور پھر ایک دفعہ فرمایا کہ اس کے سو معنے ہوتے ہیں۔اس کے یہی معنے ہیں کہ قرآن کریم کا ایک ایک بطن آگے کئی کئی معارف پر مشتمل ہوتا ہے اور اس طرح مل کر کئی سو حقائق ہو جاتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کی یہ بھی سنت ہے کہ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ۔یعنی وہ نئے سے نئے معارف نازل کرتا ہے، اور اِس طرح قرآن کریم کا علم کبھی ختم ہونے میں نہیں آتا۔تو جس طرح قرآن مجید اُستاد سے پڑھنے میں آتا ہے اس طرح ترجمہ سے نہیں آ سکتا۔پس طریق یہی ہے کہ انسان کسی استاد سے ترجمہ پڑھے اور اس ترجمہ کو صرف اپنے ذاتی استعمال کے لئے رکھ لے۔یعنی کبھی کسی لفظ کا ترجمہ بُھول گئے تو اُس کو دیکھ لیا یا کسی غیر کے سامنے ترجمہ پیش کرنا ہوا تو اُسے پیش کر دیا۔مگر باوجود اس کے چونکہ اب ساری جماعت قادیان آ کر نہیں پڑھ سکتی اس لئے انہیں کچھ تو ملنا چاہئے۔اگر ہماری جماعت کے افراد اُستادوں سے قرآن مجید میں سستی کر رہے ہیں تو ہم یہ بھی تو نہیں کر سکتے کہ اُن کی طرف سے بالکل توجہ ہٹا لیں اور اُنہیں روحانی طور پر مر جانے دیں۔بیمار جب بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتا تو اُسے فیڈ نگ کپ کے ذریعہ دودھ دیتے ہیں، اور جب دودھ بھی نہیں پی سکتا