خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 207

خطابات شوری جلد دوم ۲۰۷ مشاورت ۱۹۳۷ء بات ثابت کر دینی چاہئے کہ ہماری طاقت عرب ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اسلام کی وجہ سے ہے۔چنانچہ اُنہوں نے کہا ساٹھ ہزار کے لشکر کے مقابلہ کے لئے مجھے صرف ساٹھ آدمی ( یا بعض روایات کے مطابق دو سو۔تاریخی روایات میں اس قسم کے خفیف فرق کوئی اہمیت نہیں رکھتے ) دیئے جائیں۔میں ان ساٹھ آدمیوں کو لے کر اُس پر حملہ کروں گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ ساٹھ آدمی مجھے خود چھنے دیئے جائیں۔چنانچہ انہوں نے مسلمانوں میں سے ساٹھ کا لشکر چُنا۔اسی لشکر میں عکرمہ بھی تھے جو ابو جہل کے بیٹے تھے اور جن کی اولا داب تک موجود ہے۔مگر بوجہ ابو جہل کے افعالِ بد کے کوئی اس کی طرف منسوب ہونا پسند نہیں کرتا۔پھر حضرت عباس کے بیٹے فضل بھی اسی لشکر میں شامل تھے۔، اسی طرح اور بڑے بڑے صحابہ یا صحابہ کے بیٹے اس میں شریک ہوئے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے بھی اس میں شامل تھے۔غرض اس چھوٹے سے دستہ نے ساٹھ ہزار فوج پر حملہ کر دیا اور ایسا زبر دست حملہ کیا کہ معا قلب لشکر تک جا پہنچے اور اس لشکر کو اُنہوں نے شکست دی لیکن چونکہ دشمن بہت زیادہ تھا اور وہ چند آدمی تھے، اس لئے قلیل افراد ہی بچ سکے۔باقی سب اِس جنگ میں یا مارے گئے یا زخمی ہو گئے۔جس وقت یہ لوگ زخمی ہو کر میدانِ جنگ میں پڑے تھے اور عیسائی لشکر ہر اول کی شکست کی وجہ سے ہراساں ہو رہا تھا صحابہ یہ دیکھنے کے لئے کہ کون کون زخمی ہوا ہے، میدان میں گئے۔اُنہوں نے پہلے عکرمہ کو دیکھا کہ اُس کی زبان خشک ہے اور نزع کی حالت ہے۔صحابہ نے اُن سے پوچھا کہ کیا آپ کو پیاس ہے؟ اُنہوں نے کہا ہاں ہے۔وہ کٹورے میں پانی ڈال کر ان کے پاس لائے لیکن ابھی اُنہوں نے پانی پیا نہ تھا کہ انہوں نے اپنے ارد گر د نظر دوڑائی اور دیکھا کہ پاس ہی فضل بن عباس بھی زخمی پڑے ہیں اور پیاس کی وجہ سے تڑپ رہے ہیں اُنہوں نے کٹورہ واپس کر دیا اور کہا کہ فضل کو پیاس مجھ سے زیادہ معلوم ہوتی ہے پہلے انہیں پانی پلاؤ۔جب وہ اُن کے پاس پانی لے کر گئے تو فضل نے اپنے ارد گرد دیکھا اور انہیں بھی ایک مسلمان زخمی نظر آیا وہ کہنے لگے اُس مسلمان کو پیاس مجھ سے زیادہ معلوم ہوتی ہے پہلے اُسے پانی پلایا جائے۔غرض اسی طرح دس کے قریب اس میدان میں زخمی پڑے تھے اور ہر ایک پیاس سے تڑپ رہا تھا لیکن ہر ایک نے کہا کہ پانی فلاں کے پاس لے جاؤ اُسے زیادہ پیاس معلوم ہوتی ہے۔آخر صحابہ