خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 208

خطابات شوری جلد دوم ۲۰۸ مشاورت ۱۹۳۷ء جب آخری زخمی کے پاس پانی لے کر پہنچے تو وہ فوت ہو چکا تھا۔اس پر وہ پھر کوٹے لیکن جس جس کے پاس گئے دیکھا کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔بقایا جات کی وصولی کا طریق تو صحابہ مرتے وقت بھی یہ اندازہ لگایا کرتے تھے کہ ہم سے زیادہ اہم کس کی ضرورت ہے، اور پھر جس کی ضرورت زیادہ ہوتی وہ اُس کو مقدم کرتے۔اسی طرح ہمیں بھی اپنے اندازوں میں کبھی حکمت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔اگر وہ جماعتیں جو زیادہ کمزور اور بیمار ہیں اور جن کے ذمہ کئی کئی سالوں سے بقائے چلے آ رہے ہیں، اُن کے پاس محصل پہنچتے اور ایک دن نہیں، دو دن نہیں، دس دن نہیں، مہینہ دو مہینے، بلکہ اتنا لمبا عرصہ وہاں ٹھہر تے کہ بقائے صاف ہو جاتے ، تو اس قدر بقائے کیوں ہوتے ، اِس قدر لمبے عرصہ سے بقایوں کا چلا آ نا بتاتا ہے کہ سب سے یکساں سلوک کیا جاتا ہے، اور بالکل اندھیر نگری چوپٹ راجہ ٹکے سیر بھاجی ٹکے سیر کھا جا “ والی مثال ہے۔کہتے ہیں کوئی راجہ تھا، اُس نے اپنے شہر میں یہ قانون بنا رکھا تھا کہ یہاں جو چیز فروخت ہو، دو پیسے سیر ہو۔سبزی بھی دو پیسے سیر ہو اور مٹھائی بھی۔مٹی بھی دو پیسے سیر ہو اور سونا بھی گویا کامل مساوات ہو مگر یہ مساوات حکمت کے بالکل خلاف ہے۔جب میں انجمنیں ایسی تھیں جن کے بقائے دوسالہ بجٹ کے برابر تھے نظارت بیت المال کو چاہئے تھا کہ وہ اپنے سارے محصل وہاں بٹھا دیتی اور بقائے وصول کرتی۔غرض دونوں صورتیں سخت قابل افسوس ہیں۔اگر بقالوں میں حسابی غلطی ہے تو بلا وجہ بعض جماعتوں کو بدنام کیا گیا اور اگر واقعہ میں اُن کے ذمے اتنا ہی بقایا ہے تو نظارت نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں سخت کوتاہی کی اور اُس نے سخت مریضوں کی طرف توجہ نہ کی حالانکہ اُن کی طرف توجہ کرنا ضروری تھا۔پھر اس سے بھی زیادہ قابلِ اعتراض بات یہ پیش کی گئی ہے کہ ۱۴ جماعتوں کے ذمہ دو سال کے بجٹ سے بھی زیادہ بقایا ہے اور بعض کے ذمے تو گیارہ سالوں کے چندہ سے بھی زیادہ بقایا ہے۔یہ اتنا بڑا فرق ہے کہ میری عقل نہیں سمجھ سکتی یہ حسابی غلطی ہے یا وہاں کی جماعتیں مرتد ہو گئی ہیں کہ اُنہوں نے سالہا سال سے چندے ادا نہیں کئے۔پس یہ غلطیاں