خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 206

خطابات شوری جلد دوم ۲۰۶ مشاورت ۱۹۳۷ء صحابہ کا ایثار یا درکھو ہمارا خدا حکیم ہے اور قرآن مجید کا ایک نام حکمت بھی ہے۔پس جو کام کرو وہ عقل اور حکمت کے ماتحت ہو، اندھا دھند کسی طریقکو اختیار نہ کرو۔صحابہ تو یہاں تک احتیاط کیا کرتے تھے کہ وہ مرتے وقت بھی یہ دیکھ لیتے تھے کہ کس کو زیادہ ضرورت ہے اور کس کو کم۔تاریخوں میں آتا ہے کہ وہ آخری لڑائی جس میں مسلمانوں نے رومی فوجوں کو شکست دے کر شام پر قبضہ کیا اور جس میں روم کے بادشاہ نے اپنے جرنیل ہامان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ فتح پائے گا تو وہ اپنی لڑکی اُس سے بیاہ دے گا۔اس جنگ میں اسلامی مؤرخین کے نزدیک رومی فوج کی تعداد چھ لاکھ سے دس لاکھ تھی ، اور عیسائی مؤرخین اس تعداد کو۳ لاکھ سے ۶ لاکھ تک بتاتے ہیں۔مسلمانوں کی فوج اسلامی مؤرخین کے نزدیک ساٹھ ہزار اور عیسائی مورخین کے نزدیک ایک لاکھ تھی۔بہر حال رومی فوج مسلمانوں کی فوج سے تین گنے سے بھی زیادہ تھی۔اس جنگ میں مسلمانوں کو جو قربانی کرنی پڑی وہ نہایت ہی اہم ہے۔بڑے بڑے صحابہ اس جنگ میں مارے گئے کیونکہ انہوں نے سب سے زیادہ قربانی اپنے ذمہ لی تھی۔چونکہ یہاں میری یہ بھی غرض ہے کہ میں آپ لوگوں کو اپنے فرائض کی طرف توجہ دلاؤں اس لئے ایک واقعہ جو اسی جنگ میں رونما ہوا سُنا دیتا ہوں۔اس جنگ میں حضرت ابو عبیدہ جو اسلامی فوج کے کمانڈر انچیف تھے، اُن کے سامنے یہ سوال پیش ہوا کہ آیا مسلمانوں کو پیچھے ہٹ جانا چاہئے اور حضرت عمرؓ سے پہلے مشورہ لے لینا چاہئے یا مقابلہ کرنا چاہئے؟ حضرت خالد بن ولید بھی اس مشورہ میں شامل تھے ، اُنہوں نے کہا اسلامی فوجوں کا پیچھے ہٹنا سخت ہتک کی بات ہے جسے ہم ہر گز برداشت نہیں کر سکتے اور آپ کا تو یہ خیال ہے کہ ہماری فوج تھوڑی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ہمارے پاس سپاہی بہت زیادہ ہیں اور اگر ہماری تعداد اس سے بھی تھوڑی ہو جائے تو ہمیں حملہ کر دینا چاہئے۔رومی فوج میں ایک عیسائی عربوں کا لشکر بھی شامل تھا جس کا سردار جبلہ ابن الا یہم تھا جس کا قصہ میں نے پرسوں اپنی تقریر میں سنایا تھا۔یہ جبلہ تمیں سے ساٹھ ہزار تک فوج لے کر مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بڑھ رہا تھا۔گویا یہ لشکر ہر اول میں تھا اور رومی فوج نے اُس کو آگے اس لئے رکھا ہوا تھا کہ جبلہ کہتا تھا ہم عرب ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ عربوں کا مقابلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔حضرت خالد نے تجویز کی کہ ہمیں جبلہ کے لشکر پر کم سے کم یہ