خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 205
خطابات شوری جلد دوم ۲۰۵ مشاورت ۱۹۳۷ء سے کم ثابت ہو۔پس یہ سوال نہایت احتیاط سے تحقیق طلب ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ ناظر صاحب بیت المال اس طرف اپنی پوری توجہ صرف کریں گے۔انہی بقایوں کے متعلق ایک اور امر جس کی طرف بابو محمد یوسف صاحب مزنگ والوں نے توجہ دلائی ہے، وہ بھی بتاتا ہے کہ کوئی غلطی ہو رہی ہے جو یا تو بجٹ میں ہے یا نظام جماعت میں۔انہوں نے بتایا ہے کہ بجٹ کی رو سے بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جن کے نام بجٹ کی رقوم سے زیادہ بقایا دکھایا جا رہا ہے۔یعنی اگر ۱۴۱ جماعتوں کا بجٹ پچاس ہزار ہے تو دوسری طرف اُن کے ذمہ جو بقایا دکھایا گیا ہے وہ ساٹھ ہزار ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ایک کافی پر انا بقایا اُن کے ذمہ دکھایا جا رہا ہے۔یہ بقایا کب سے ہے؟ یہ بجٹ سے معلوم نہیں ہوسکتا حالانکہ ہمیشہ سنہ کا بھی اظہار کرنا چاہئے۔ممکن ہے محکمہ خود بخود بعض سالوں کا بقایا یہ سمجھ کر اڑا دیتا ہو کہ اِس پر کافی سال گزر چکے ہیں اور اب اتنا پرانا بقایا شامل کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔مثلاً ممکن ہے وہ خیال کرتا ہو ۱۹۲۹ء کا بقایا پرانا ہو گیا ہے آئندہ بقائے ۱۹۳۰ء کے بقایا سے شمار ہونے چاہئیں۔یا ۱۹۳۰ء پرانا ہو گیا ہے آئندہ بقائے ۱۹۳۱ء سے شمار ہونے چاہئیں۔تو بقایوں کے بتاتے وقت سنہ بھی بتانا چاہئے کہ یہ فلاں سال سے بقایا چلا آ رہا ہے اور پھر یہ بھی بتانا چاہئے کہ گزشتہ بقالوں کا کیا بنا۔آیا وہ جماعتوں کو معاف کر دیئے گئے ہیں یا وہ ادا ہوئے ہیں اور اگر ادا ہوئے ہیں تو کس حد تک۔دوسری بات اُنہوں نے یہ پیش کی ہے کہ میں جماعتوں کے ذمے اُن کی آمد سے د گنا بقایا دکھایا گیا ہے۔اب بقایا کا دُگنا ہونا بتا تا ہے کہ اُن جماعتوں نے متواتر دوسال چندہ نہیں دیا اور اگر یہ صحیح ہے کہ انہوں نے دو سال سے چندہ نہیں دیا تو نظارت بیت المال کو چاہئے تھا کہ وہ اپنے محصل انہی جماعتوں میں بٹھا دیتی اور انہیں وہاں سے ہلنے نہ دیتی جب تک بقائے وصول نہ ہو جاتے مگر معلوم ہوتا ہے محکمہ نے اس طرف توجہ نہیں کی۔وہ ایک راستہ اپنے لئے تجویز کر لیتے ہیں اور پھر درمیانی مصالح سے آزاد ہو کر اس پر چلنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ نہیں دیکھتے کہ کسی مریض کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہے اور کس کی طرف کم توجہ کی ضرورت ہے۔