خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 180
خطابات شوری جلد دوم ۱۸۰ مشاورت ۱۹۳۷ء بیس سال ہوئے جب میں نے یہ رویا دیکھا۔اُس وقت سندھ سے ہمارا کوئی تعلق نہ تھا لیکن جب سکھر بیراج کی سکیم مکمل ہوئی تو میں نے صدر انجمن پر زور دیا کہ وہاں زمینیں لیں۔اس میں ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت ہوگی ، کیونکہ میں نے اس کے متعلق رویا دیکھا ہوا ہے۔پھر کراچی خصوصیت سے بندرگاہ ہے عرب اور ایران کا۔اور عرب اور ایرانی لوگ مغربی تمدن کے نیچے بہت جلد جلد آ رہے ہیں۔ترکوں کو دیکھ لو اُنہوں نے کس طرح عربوں کو اپنے ملک سے خارج کر دیا۔یہی حال ایران کا ہے۔اگر ہم ان ممالک کی طرف توجہ نہ کریں تو ڈر ہے کہ ایسا نہ ہو ہم یورپ کے لوگوں کو مسلمان بناتے پھریں اور یہاں کے مسلمان اسلام سے نکلتے جائیں اور اگر ایسا ہی ہوا تو پھر ہماری تبلیغی کوششوں کا کیا فائدہ۔پس مشرق میں ایک بیداری پیدا ہو رہی ہے اور جس طرح بچہ جب بولنے لگتا ہے تو بعض دفعہ بیہودہ حرکتیں بھی کرتا ہے۔کبھی گالیاں دیتا ہے، کبھی منہ چڑاتا ہے، کبھی دوسرے کو مارتا ہے، اسی قسم کا تغییر ان میں بھی پیدا ہو رہا ہے۔پس گو وہ حرکتیں ایسی ہی ہیں جیسے بچہ کی حرکتیں لیکن اگر اسی وقت ہم نے ان کا ازالہ نہ کیا ، تو پھر یہ عادات بن جائیں گی اور ان کا دور کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔پس یہ تغیرات جو ایران وغیرہ میں پیدا ہو رہے ہیں ایک تبدیلی پر تو دلالت کرتے ہیں، ایک بیداری اور ہوشیاری پر تو دلالت کرتے ہیں لیکن بچے کی ہوشیاری کا زمانہ ہی تربیت کا زمانہ ہوتا ہے اور اگر ہم اُس وقت اُسے نہ سمجھا ئیں تو وہ اچھا خاصہ بدمعاش بن جاتا ہے اور پھر اُس کو سمجھانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ہمارے لئے ان ممالک میں تبلیغ کے راستہ میں سخت مشکلات ہیں کیونکہ ان ممالک میں دین کو سیاست کا حجز و سمجھا جاتا ہے۔ترک دین میں دخل دیتے اور کہتے ہیں یہ سیاست ہے۔اسی طرح حکومت ایران دین میں دخل دیتی لیکن کہتی یہ ہے کہ یہ سیاست کا حصہ ہے۔پس ان ممالک میں تبلیغ کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ ہم ایسی جگہ بیٹھیں جہاں ان ممالک کے لوگ اکثر آتے رہتے ہیں، اور اندر ہی اندر اُن کے خیالات کا ازالہ کریں۔کیونکہ اگر ہمارا مبلغ وہاں جائے تو وہ فوراً اُسے پکڑ کر باہر نکال دیں گے، یا افغانستان جیسے ملک میں مبلغ جائے گا تو وہ اُسے مار ہی دیں گے۔آج ہر عیسائی ملک