خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 179
خطابات شوری جلد دوم ۱۷۹ مشاورت ۱۹۳۷ء خطاب یافتہ اور بینکر ہیں۔تو معلوم ہوتا ہے اس میں اسی طرف اشارہ تھا کہ اس قوم کو تبلیغ سے خالی نہ چھوڑ و مگر بعض دفعہ خواب کی تعبیر ایک وقت سمجھ میں نہیں آتی اور دوسرے وقت آ جاتی ہے۔اُس وقت میں نے اس خواب کی تعبیر نہ سمجھی ، لیکن تحریک جدید پر خدا تعالیٰ نے یہ بات میرے دل میں ڈالی اور میں نے دعوت وتبلیغ پر زور دینا شروع کیا کہ وہ بمبئی میں تبلیغی مرکز قائم کرے۔اسی طرح کراچی کے مرکز کے متعلق بھی مجھے مدت ہوئی رؤیا ہو چکی ہے جو میں نے کئی دفعہ سُنائی ہے، اس کے لحاظ سے بھی اور اسلامی ممالک کی طرف توجہ رکھنے کی ضرورت کی وجہ سے بھی وہاں مرکز قائم کرنا نہایت ضروری ہے۔قریباً میں سال کی بات ہے میں نے رویا دیکھا کہ میں ایک نہر پر کھڑا ہوں اور اُس کے اردگرد بہت سبزہ زار ہے جیسے انسان بعض دفعہ نہر پر سیر کے لئے جاتا ہے اور لطف اُٹھا تا ہے اسی طرح میں بھی نہر پر کھڑا ہوں۔اس کا پانی نہایت ٹھنڈا اور اس کے چاروں طرف سبزہ ہے کہ اسی حالت میں یکدم شور کی آواز آئی جیسے قیامت آجاتی ہے۔میں نے اوپر کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا نہر ٹوٹ کر اُس کا پانی تمام علاقہ میں پھیل گیا ہے اور سُرعت سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ پانی اس قدر بڑھا کہ سینکڑوں گاؤں غرق ہو گئے۔میں یہ نظارہ دیکھ کر سخت گھبرایا اور میں نے چاہا کہ واپس لوٹوں تا پانی میرے قریب نہ پہنچ جائے ، مگر ابھی میں یہ خیال ہی کر رہا تھا کہ میں نے دیکھا میرے چاروں طرف پانی آ گیا ہے پھر میں نے دیکھا کہ نہر کا بند ٹوٹ گیا اور میں بھی نہر کے اندر جا پڑا۔جب میں نہر کے اندر گر گیا تو میں نے تیرنا شروع کیا یہاں تک کہ میلوں میل میں تیرتا چلا گیا مگر میرا پاؤں کہیں نہ لگا۔آخر جب سینکڑوں میل دور نکل گیا تو میں گھبرانے لگا اور میں نے کہا معلوم نہیں اب کیا ہوگا ، یہاں تک کہ میں نے سمجھا میں تیرتے تیرتے قریباً پنجاب کی سرحد تک پہنچ گیا ہوں۔تب گھبراہٹ کی حالت میں میں نے دُعا کرنی شروع کی کہ یا اللہ ! سندھ میں تو پیر لگ جائیں، یا اللہ ! سندھ میں تو پیر لگ جائیں۔ابھی میں یہ دُعا کر ہی رہا تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ سندھ آ گیا اور پھر جو میں نے کوشش کی تو میرا پیر ٹک گیا اور پانی چھوٹا ہو گیا، اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے سب پانی غائب ہو گیا۔