خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 181
۱۸۱ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء میں بلکہ بد سے بدتر عیسائی ملک میں بھی ہم تبلیغ کر سکتے ہیں حتی کہ سپین میں جہاں اتنی جنگ ہو رہی ہے کہ بپرس کی گولہ باری بھی اس کے مقابلہ میں ماند ہو گئی ہے( بپرس YEPRES ایک فرانسیسی حدود کے پاس بلجیئم کے ایک مقام کا نام ہے۔گزشتہ جنگِ عظیم میں جس قدر وہاں گولہ باری ہوئی اُتنی کسی اور جگہ نہیں ہوئی لیکن جنگ عظیم میں شامل ہونے والے افسروں میں سے بعض کا بیان ہے کہ جس قدر میڈرڈ کے پاس گولہ باری ہوئی ہے، اس کا دسواں حصہ بھی پرس پر نہ ہوئی تھی) وہاں ہمارا مبلغ تھا اور جنگ کے دنوں میں وہ احمدی بنا رہا تھا، اور حکومت اس میں دخل نہیں دیتی تھی۔لیکن اس کا دسواں حصہ بھی ہم ترکی اور ایران میں تبلیغ نہیں کر سکتے اور ہمارے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ ہمارے میں کراچی میں بیٹھ جائیں اور ان ممالک سے آنے والے جو تجارت یا سیر وسیاحت کے لئے آتے ہیں اُن کو تبلیغ کرتے رہیں۔اس طرح ملک میں ایک حصہ ایسا تیار ہو جائے گا، جو اپنے ملک کی غیر اسلامی رو کا مقابلہ کرتا رہے گا۔ابھی پرسوں ایک دوست نے مجھے ایک اخبار کی کٹنگ بھجوایا اُسے پڑھ کر میرے جسم پر لرزہ آ گیا۔اُس کٹنگ میں مسلمانوں کے ایک بڑے آدمی کی ایک تقریر تھی جو اُس نے پہلی دفعہ مذہب پر کی۔اس سے پہلے وہ لوگوں کی عملی زندگی پر اثر ڈالتا تھا۔مثلاً کہتا تھا کہ عورتوں کو پردہ نہیں کرنا چاہئے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اُس نے ایک پبلک تقریر کی اور کہا بعض کہتے ہیں تجدید اچھی چیز ہے اور بعض کہتے ہیں تجدید بُری چیز ہے، اصل بات یہ ہے کہ تجدید عقل کے ماتحت ہو تو اچھی ہوتی ہے، عقل کے ماتحت نہ ہو تو اچھی نہیں ہوتی۔بہر حال عقل کے ماتحت تجدید نہایت ضروری چیز ہے۔ہر صدی میں ایسے تغیرات ہوتے ہیں کہ جن کو دیکھتے ہوئے پچھلی صدی کے احکام کو بھی اُس پر چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔پس آج زمانہ میں جو تغیرات ہو رہے ہیں، اُس کو دیکھتے ہوئے تیرہ سو سال کی پرانی باتیں دُہرانا بیوقوفی ہے۔شارع اسلام اگر آج ہوتا تو وہ کبھی وہ تعلیم نہ دیتا جو اُس نے آج سے تیرہ سو سال پہلے دی اس لئے ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ ہم احکام اسلامی میں جو تجدید کرتے ہیں، یہ شارع اسلام کے منشاء کے عین مطابق ہے۔کیونکہ اگر آج وہ بھی ہوتے ، تو پہلی تعلیم کو بدل کر یہی تعلیم دیتے اب گو الفاظ یہ نہیں، لیکن ان کا مفہوم تو یقیناً یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم