خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 178

خطابات شوری جلد دوم مشاورت ۱۹۳۷ء سے بالکل خالی پڑا ہے اور انہیں احمدیت کی خبر ہی نہیں۔تاجروں کی طرف توجہ کی اہمیت علاوہ اس کے ایک اور اہم دینی پہلو بھی ہے جس کے لحاظ سے تاجروں کی طرف توجہ کرنا ہمارے لئے نہایت ضروری ہے اور وہ یہ کہ اسلام کے اقتصادی مسائل سب تاجروں سے تعلق رکھتے ہیں۔مثلاً سود ہے، بیمہ ہے اور اسی طرح کے اور بہت سے مسائل ہیں۔ہم ان مسائل کے بارہ میں کبھی بھی صحیح اسلامی رو پیدا نہیں کر سکتے جب تک تاجر ہمارے ساتھ نہ ہوں۔اب جب ہم تبلیغ کرتے اور یہ مسائل اُن کے کانوں تک پہنچاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں تم زمیندار ہو تم کیا جانو تجارت میں کیا مشکلات ہیں۔پھر کوئی ملازم انہیں سمجھاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں ملازموں کو تجارت کا کیا پتہ لیکن اگر ایک تاجر کے منہ سے یہ باتیں نکلیں اور تاجروں کا ایک جتھا ہمارے ساتھ ہو جو ہماری بتائی ہوئی سکیم کے ماتحت کام کرے، تو ان اسلامی مسائل کی عظمت کو ہم پورے طور پر لوگوں کے قلوب پر منقش کر سکتے ہیں۔ورنہ خالی تقریریں کر دینے اور کتابوں میں ان مسائل کو لکھ دینے سے کیا بن سکتا ہے۔اور اگر صرف ایک تاجر عمل کرنے کے لئے تیار بھی ہو تو دس دن کے اندر اس کا دیوالہ نکل جائے لیکن اگر ہزار ڈیڑھ ہزار تاجروں کا ایک جتھا ہو جائے اور وہ ایک دوسرے سے تعاون کریں تو ایسے بینک جاری کئے جا سکتے ہیں جن میں سود نہ ہو۔اس طرح وہ سُود کی لعنت سے بھی بچ سکتے اور خطرے سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔تو اسلامی تعلیم کا ایک جُز و تاجروں کی عدم شمولیت کی وجہ سے بالکل باطل پڑا ہوا ہے۔زمیندار اور ملازم پیشہ اصحاب اس کے متعلق لاکھ کوشش کریں، وہ کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک تاجر اس میں شریک نہ ہوں۔یہ وہ خیالات ہیں جو تحریک جدید کے ماتحت خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے سمجھائے گئے ، گواشارہ اس طرف مجھے دیر سے ہو چکا تھا۔چنانچہ ۱۹۱۵ء کی بات ہے میں نے رویا دیکھا کہ بمبئی سے تاجروں کی دو توجہ طلب رؤیا بیعتیں آئی ہیں اور اُن میں سے ایک کا نام راؤ بہادر راگھو رام جیسا ہے اور جیسا کہ ان علاقوں میں قاعدہ ہے ہر نام باپ کے نام کے ساتھ ملا کر رکھا ہوا ہے۔وہ فہرست آٹھ نو تاجروں کی تھی اور مجھے خواب میں ہی معلوم ہوا کہ ان میں سے اکثر