خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 151
خطابات شوری جلد دوم ۱۵۱ مشاورت ۱۹۳۷ء غریب ہو گئے ہیں تو کیا ہو ا د نیوی لحاظ سے ہمارا ایک حق قائم ہے، وہ ہم لے کر چھوڑیں گے۔چنانچہ انہوں نے علم سیکھا اور لیاقت پیدا کی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ذریعہ سے اپنے حق کے ایک حصہ کو کم سے کم واپس لے لیا۔تو جس چیز کو انسان اپنی سمجھتا ہے اُس کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے اور جس چیز کو اپنی نہیں سمجھتا اُس کے حصول کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتا۔پھر جو چیز خدا تعالیٰ نے تمہیں دینے کا وعدہ کیا ہے اور اس لئے دینے کا وعدہ کیا ہے کہ تم ہی اُس چیز کے حقیقی اہل ہو اُس چیز کے حصول کے لئے اگر تم جدو جہد نہ کرو تو کون کہہ سکتا ہے کہ تمہیں خدا تعالیٰ کے وعدوں پر یقین ہے۔کئی نادان ہم میں ایسے بھی ہیں کہ جب تحریک جدید کے خطبات کا سلسلہ میں نے شروع کیا تو وہ اور قادیان کے بعض منافق کہنے لگ گئے کہ اب تو گورنمنٹ سے لڑائی شروع کر دی گئی ہے۔بھلا گورنمنٹ کا اور ہمارا کیا مقابلہ ہے۔اُن کی اتنی بات تو صحیح ہے کہ گورنمنٹ کا اور ہمارا کیا مقابلہ ہے مگر اس لحاظ سے نہیں کہ گورنمنٹ بڑی ہے اور ہم چھوٹے بلکہ اس لحاظ سے کہ ہم بڑے ہیں اور گورنمنٹ چھوٹی۔اگر ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑے کئے گئے ہیں اور یقیناً اُسی کی طرف سے کھڑے کئے گئے ہیں تو پھر اگر ہم مر بھی جائیں تو ہماری موت موت نہیں بلکہ زندگی ہے۔آجکل محرم کے ایام ہیں اس لئے اس بات کا سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔دیکھو جس دن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو یزید کی فوجوں نے مارا ہو گا وہ کس قدر خوش ہوئی ہوں گی اور اُنہوں نے کس مسرت سے کہا ہوگا کہ لو یہ قصہ ختم ہو گیا مگر کیا واقعہ میں وہ قصہ ختم ہو گیا ؟ دُنیا دیکھ رہی ہے کہ امام حسین آج بھی زندہ ہیں مگر یزید پر اُس وقت بھی لعنت تھی اور آج بھی لعنت پڑ رہی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی جماعتیں کبھی مرا نہیں کرتیں۔حکومتیں مٹ جاتی ہیں لیکن انہی سلسلے کبھی نہیں مٹتے۔حکومت زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتی تھی کہ ہم میں سے بعض کو گرفتار کر لیتی یا بعض کو بعض الزامات میں پھانسی دے دیتی مگر کسی آدمی کے مارے جانے سے تو الہی سلسلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ الہی سلسلوں میں سے اگر ایک مرتا ہے تو خدا تعالیٰ اُس کی جگہ دس قائم مقام پیدا کر دیتا ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص مرتد ہو گا تو میں اُس کی جگہ ایک قوم کو لاؤں گا۔اسی طرح جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے راستہ میں قربان