خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 150

خطابات شوری جلد دوم مشاورت ۱۹۳۷ء کو یہاں سے نکلنا پڑا اور کپورتھلہ کی ریاست میں پناہ گزین ہو گئے۔اُس وقت ریاست والوں نے چاہا کہ آپ کو دو گاؤں گزارہ کے لئے دیدیں لیکن آپ نے نہ لئے اور فرمایا اگر ہم نے یہ گاؤں لے لئے تو پھر ہم یہیں رہ پڑیں گے اور اس طرح اولاد کی ہمت پست ہو جائے گی اور اپنی خاندانی روایات قائم رکھنے کا خیال اُس کے دل سے جاتا رہے گا لیکن وہ رہے ایک لمبے عرصہ تک وہیں۔پھر جس وقت ہمارے دادا ذرا بڑے ہوئے تو اُس وقت سولہ سترہ سال کی عمر تھی کہ اُن کے والد فوت ہوئے اُنہوں نے انہیں لا کر قادیان میں دفن کیا اور خود دہلی پڑھنے چلے گئے حالانکہ کوئی سامان میسر نہ تھا۔ایک میراثی خدمت گار کے طور پر ساتھ گیا۔شاید اس زمانہ کے لوگوں میں وفا کا مادہ زیادہ ہوتا تھا کہ اس غربت کی حالت میں اُس شخص نے ساتھ نہ چھوڑا۔جب دہلی پہنچے تو ایک مسجد میں جہاں مدرسہ تھا جا کر بیٹھ گئے۔اُنہوں نے سُنا ہو ا تھا کہ دہلی شاہی جگہ ہے اور وہاں لڑکوں کو مفت تعلیم ملتی ہے۔لیکن بیٹھے بیٹھے کئی دن گزر گئے مگر کسی نے اُن کا حال دریافت نہ کیا اور نہ کھانے کو کچھ دیا۔آخر جب تین دن کا فاقہ ہو گیا تو چوتھے دن کسی شخص کو جو خود بھی کنگال تھا خیال آیا کہ انہیں اتنے دن یہاں بیٹھے ہو گئے ہیں انہیں کچھ کھانے کو تو دینا چاہئے چنانچہ وہ ایک سوکھی روٹی لا کر انہیں دے گیا اُس نے جو روٹی اُن کے ہاتھ میں دی تو اُن کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ہمراہی نے سمجھ لیا کہ معلوم ہوتا ہے روٹی خراب ہے اور انہیں دیکھ کر اپنی گزشتہ حالت یاد آ گئی ہے اور اس کا تصور کر کے تکلیف محسوس ہوئی ہے۔اس موقع پر اُس نے مذاق کے طور پر اُن کا دل بہلانے کے لئے کہا لا ئیں میرا حصہ مجھے دیں۔اُن کو پہلے ہی غصہ آیا ہوا تھا، اُس کا یہ فقرہ سُن کر انہوں نے زور سے روٹی اُٹھا کر اُس کی طرف پھینکی جو اتفاقاً اُس کی ناک پر لگی اور چونکہ روٹی سُوکھی ہوئی تھی اس لئے اُس کے لگنے سے اُس کی ناک کی ہڈی پر زخم ہو گیا اور خون بہنے لگا۔مگر ان تمام مشکلات کے باوجود انہوں نے تعلیم حاصل کی ، محنت کی اور اس قدر ہمت سے کام لیا کہ آخر ایک بہت بڑے عالم اور طبیب ہو گئے۔واپس آئے تو مہا راجہ رنجیت سنگھ کا زمانہ شروع ہو گیا تھا اُنہوں نے اُن کی جائیداد میں سے سات گاؤں واگزار کر دیئے اور جنرل کے عہدہ پر فوج میں مقرر کیا۔اب دیکھو کہ کس بے کسی کی حالت کو پہنچ کر بھی اُنہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور نہ اپنی ہمت پست کی بلکہ سمجھا کہ اگر ہم