خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 152
۱۵۲ مشاورت ۱۹۳۷ء خطابات شوری جلد دوم ہوتا ہے تو اُس کا خون رائیگاں نہیں جاتا بلکہ اُس کی جگہ اللہ تعالیٰ ایک قوم لا تا اور اپنے سلسلہ میں داخل کرتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں انہیں مُردہ مت کہو بل احیا بلکہ وہ زندہ ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کو زندہ اسی لئے کہا کہ جب ایک شخص کی جگہ دس کھڑے ہو گئے تو وہ مرا کہاں اور جب وہ مرا نہیں تو اُسے مردہ کہنا کس طرح درست ہو سکتا ہے، پس اللہ تعالیٰ کے مقربین اور اس کی جماعتیں کبھی نہیں مرتیں۔حضرت عیسی علیہ السلام صلیب پر لٹکائے گئے اور پھر وہ زندہ ہی صلیب سے اُتارے گئے گوجیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے بعض نے یہ بھی سمجھا کہ آپ مر گئے ہیں لیکن اکثر یہی سمجھتے تھے کہ آپ زندہ ہیں مگر آپ کو صلیب پر لٹکانے والوں کا کیا انجام ہو !؟ اُس صلیب پر لٹکانے کے مجرم میں آج بھی جب کہ اس واقعہ پر اُنیس سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے، یہود ہر جگہ مار کھا رہے ہیں اور صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں حالانکہ پچاس ساٹھ سال کے بعد لوگ اپنے دادوں پر دادوں کا نام تک بُھول جاتے ہیں۔بیسیوں آدمی ہیں جو مجھ سے ملتے ہیں اور میں اُن سے دریافت کرتا ہوں کہ آپ کے دادا کا کیا نام تھا ؟ تو وہ بتا نہیں سکتے اور کہتے ہیں پتہ نہیں کیا نام تھا اور اگر دادا کا نام لوگ جانتے بھی ہوں تو سو سال پہلے کے آباء کو تو لاکھوں کروڑوں میں کوئی ایک جانتا ہے مگر حضرت عیسی علیہ السلام کو مارنے کی کوشش پر انیس سو سال گزر گئے اور آج تک یہودیوں کو پھانسیاں مل رہی ہیں۔اسی طرح مکہ کے جن اکابر نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مارنا چاہا کیا آج ان لوگوں کا دُنیا میں کوئی نام لیوا ہے؟ اُحد کے مقام پر ابوسفیان نے آواز دی تھی اور کہا تھا کیا تم میں محمد ہے؟ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور جب اس کا جواب نہ ملا تو اُس نے کہا میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مار دیا۔پھر اُس نے آواز دی کیا تم میں ابوبکر ہے؟ اور جب اس کا بھی جواب نہ ملا تو اُس نے کہا میں نے ابو بکر کو بھی مار دیا ، پھر اُس نے پوچھا کیا تم میں عمر ہے؟ جب اس کا بھی جواب نہ ملا تو اُس نے کہا میں نے عمر کو بھی مار دیا لیکن آج جاؤ تو دُنیا کے کناروں پر اور اُس آواز دینے والے کے ہمنوا کفار کے سردار ابو جہل کو بلا ؤ اور آواز دو کہ کیا تم میں ابو جہل ہے؟ تو تم دیکھو گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر تو