خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 123

خطابات شوری جلد دوئم اختتامی تقریر ۱۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کے تیسرے دن یعنی ۲۵ اکتوبر کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد حضور نے ممبران سے الوداعی خطاب کرتے ہوئے فرمایا: - اس وقت میں ایک دو باتوں کی طرف فوری توجہ دلاتا ہوں۔ایک تجویز یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں زمین حاصل کی جائے اور وہاں احمدیوں کی آبادی قائم کی جائے۔دوسری تجویز اشتمال اراضی کی ہے اس کے لئے گورنمنٹ کوشش کر رہی ہے مگر اسے نہ زمینداروں نے سمجھا ہے اور نہ گورنمنٹ کا طریق مفید ہے۔گورنمنٹ صرف یہ کہتی ہے کہ ایک زمیندار کی زمین ایک جگہ اکٹھی کر دی جائے لیکن اگر ایسا کر دیا جائے تو زمین اتنی تھوڑی ہوتی ہے کہ نفع نہیں دے سکتی۔میں مدت سے اس بات پر قائم ہوں کہ جب تک گاؤں کا بڑا حصہ یا سارا گاؤں اپنی زمین اکٹھی نہ کرے، زمین سے نفع نہ ہو گا۔ہونا یہ چاہئے کہ ساری زمین اکٹھی کرنے کے بعد جتنے لوگ اس پر لگائے جاسکیں اس پر کام کریں اور باقی اور جگہ جا کر کام کریں۔اس کے بغیر زمینداروں میں ترقی نہیں ہو سکتی سوائے بڑے زمینداروں کے۔اب یہ صورت ہے کہ ایک شخص کے پاس دوا یکٹر یا پانچ ایکٹر یا دس ایکٹر زمین ہوتی ہے وہ کچھ زمین میں ماش بوتا ہے، تھوڑی سی کپاس لگاتا ہے، کچھ گنا ہوتا ہے اور کچھ گیہوں بو دیتا ہے۔گو با وجود زمین کم ہونے کے اپنی تمام ضروریات اُس سے حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر سب زمینوں کی حالت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ایک زمین میں ایک جنس اچھی ہوتی ہے دوسری اچھی نہیں ہوتی۔امریکہ میں یہ طریق ہے کہ گاؤں والوں کی زمین مشترک رکھی جاتی ہے اور اعلیٰ درجہ کے آلات سے کام کیا جاتا ہے مگر ہندوستانی ادھر نہیں آتے۔تحریک جدید میں میں نے یہ رکھا تھا کہ جب مالی حالت مضبوط ہو جائے تو جس گاؤں والے ہماری تجاویز کے مطابق کام کریں اُن کو امداد دی جائے۔یہ تو جب ہو گا ، ہو گا۔جماعت کے لوگوں کو اپنے طور پر یہ عادت ڈالنی چاہئے البتہ ایک بات ایسی ہے کہ اب بھی اس پر عمل کیا جا سکتا ہے اور اسے چھ ماہ کے لئے پیچھے ڈالنا بھی ممنر ہے۔وہ یہ کہ تعاونی کمیٹیاں مقرر کی جائیں جن میں زمیندار شریک ہو کر ایک مقررہ قسط ادا کریں۔پھر جس کے نام قرعہ نکلے اُسے زمین خرید کر دے