خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 122
خطابات شوری جلد دوئم ۱۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کرنے کا ہے۔اگر آپ لوگ ان پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں تو کامیابی بھی حاصل ہو جائے گی ورنہ نہیں۔اس وقت جو تجاویز میں نے بیان کی ہیں وہ ایسی ہیں کہ سوائے مرکزی کارکنوں کے اور کسی پر بوجھ نہیں پڑتا اور سلسلہ کے کام سہولت سے ہو سکتے ہیں۔آپ لوگوں نے اگر کام کرنا ہے تو کر کے دکھا ئیں۔ورنہ کیا فائدہ ہے اس کا کہ یہاں آئے اور باتیں کر کے چلے گئے۔یہی ریز روفنڈ کی تجویز ہے۔میرا اندازہ ہے کہ سو میں سے دو جماعتوں نے بھی اس کی طرف توجہ نہیں کی اور ہزار میں سے ایک نے بھی عمل نہیں کیا۔جماعت کو کام کی اہمیت سمجھنی چاہئے اور پھر جو تجاویز پیش کی جائیں اُن پر عمل کرنا چاہئے امید ہے کہ جماعت ان تجاویز پر عمل کرے گی۔گو پچھلی دفعہ کھڑے کر کے دیکھنے کا کوئی فائدہ نہ ہو ا مگر کیا پتہ ہے کہ ألم يأن للذين امنوا أن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ يذكر الله شاید آج وہ وقت آ گیا ہو کہ جماعت اپنے وعدے پورے کرنے کے لئے تیار ہو۔یہ تجاویز جو میں نے بتائی ہیں ان کی وجہ سے آپ لوگوں پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔پھر یہ مرضی پر منحصر ہیں جس کی مرضی ہو وہ شامل ہو سکتا ہے۔کیا آپ لوگ وعدہ کرتے ہیں کہ ان تجاویز پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے ؟ آئندہ نتیجہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اگر وعدہ کرتے ہیں تو کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر سب کے سب نمائندے کھڑے ہو گئے۔فرمایا: - بیٹھ جائیں۔یہ آپ لوگوں نے اخلاقی ذمہ داری بھی لی ہے۔آپ کی یہ ذمہ داری نہیں کہ اپنے ہمسایہ سے ضرور چندہ لیں گے بلکہ یہ ہے کہ اُسے تحریک کریں گے۔ایسی وصیت جس نے کی ہوئی ہے وہ اپنے نفس سے پوچھے وہ اضافہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو معذور سمجھا جائے۔اس طرح دوسروں سے پوچھے۔پھر ریز روفنڈ ہے، اس کے لئے یہ نہیں رکھا کہ ضرور دیں مگر یہ ضرور رکھا ہے کہ ہفتہ میں یا مہینہ میں ایک بار جا کر کوشش کریں۔اور آپ ہی نہیں بلکہ جماعت کے دوسرے لوگوں کو بھی اس کی تحریک کریں۔میں سمجھتا ہوں ان تجاویز پر عمل کیا جائے تو بوجھ کم ہوسکتا ہے اور مالی مشکلات دور ہو سکتی ہیں۔“