خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 121
خطابات شوری جلد دوئم ۱۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء دوسری طرف عملہ بیت المال کو ذمہ دار قرار دیا جائے اور اس پر زیادہ بار ڈالا جائے اور اگر ثابت ہو جائے کہ عملہ نے کام اچھی طرح نہیں کیا تو اس کو سزا دی جائے مثلاً یہ کہ دوسروں کو جتنے ماہ کی تنخواہ نہ ملی ہو بیٹ المال والوں کو اُن سے بھی پیچھے رکھا جائے یا ان کی رقم زیادہ کائی جائے لیکن اگر کام کے مقابلہ میں عملہ کم ہو تو عملہ بڑھایا جائے اور ہر روز کا پتہ رکھا جائے کہ آج کیا حالت ہے۔اگر کوئی کمی واقع ہوتو معلوم کیا جائے کہ کون سی جماعت اس کی ذمہ دار ہے۔عملہ میں اضافہ کی اگر ضرورت محسوس کی گئی تو میں خود بڑھاؤں گا عملہ میں ایسے آدمی داخل کئے جائیں جو باہر کے اکاؤنٹ کا تجربہ رکھتے ہوں تا کہ عمدگی سے کام کر سکیں۔سب کمیٹی کی پانچویں تجویز انجمن کی جائداد فروخت کرنے کی ہے اس کے لئے پہلے سے ہی کوشش ہو رہی ہے مگر آئندہ زیادہ زور دیا جائے اور اس فروخت سے جو رقم وصول ہو اُس سے زیادہ قیمتی جائداد پیدا کی جائے۔ریز روفنڈ کی تحریک بھی ہو چکی ہے ایک دوست نے لکھا ہے کہ یہ ایسی تحریک ہے جس پر ہر احمدی عمل کر کے کامیابی حاصل کر سکتا ہے اُن کا اپنا تجربہ یہ ہے کہ ہر اتوار کو گھر سے نکلتے ہیں اور کم از کم آٹھ آنے ضرور مل جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کون ایسا احمدی ہے جو ہفتہ وار آٹھ آنے بھی نہ لا سکے اور اس طرح انہوں نے سوالاکھ روپیہ کا اندازہ کیا ہے۔میں اُن کے تجربہ کو رڈ نہیں کرتا۔وہی رڈ کر سکتا ہے جو ان کی تجویز پر عمل کرے اور اسے کامیابی نہ ہو اس لئے یہ تجربہ قابل تجربہ ہے۔نہ سہی سوالاکھ ، ۱۵،۱۰ ہزار روپیہ سال میں جمع ہو جانا تو کوئی مشکل نہیں ہے مگر سوال کام کرنے کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کوئی امیر تھا جس کے باورچی خانہ میں بہت اسراف ہوتا تھا اُس نے کہا باورچی خانہ کے دروازوں کو کواڑ لگا دیئے جائیں۔یہ بات جب اُن کتوں کو معلوم ہوئی جو باورچی خانہ میں داخل ہو کر کھاتے پیتے تھے تو وہ ایک جگہ جمع ہو کر رونے لگے۔اتنے میں ایک بوڑھا ئتا آیا جس نے رونے کی وجہ پوچھی اور جب اُسے بتائی گئی تو اُس نے کہا رونے کی کیا ضرورت ہے کواڑ اگر لگ بھی گئے تو انہیں بند کون کرے گا؟ پس ترکیبیں تو ہیں اور ان پر عمل کر کے کامیابی بھی ہو سکتی ہے مگر سوال بند