خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 120
خطابات شوری جلد دوئم ہیں اور قرض بھی ادا کر سکتے ہیں۔مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء چندہ خاص کو میں پسند نہیں کرتا یہ جبری ہو گا اور یہ طوعی کو بھی کھا جاتا ہے اور تحریک جدید کے چندہ کو بھی کھا جائے گا۔میرا خیال تھا کہ تحریک جدید کے تین سال ختم ہونے کے بعد چوتھے سال چندہ خاص کیا جائے اور اس سال ایک مہینہ کی آمدنی دینے کی تحریک کروں جس میں سے ایک قلیل رقم تحریک جدید میں رکھ کر باقی انجمن کو دے دی جائے لیکن یہ ۶۳ فیصدی چندہ کی تحریک بنتی ہے۔در اصل مستقل آمد نہ ہونے کی وجہ سے ساری مشکلات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الوصیت میں اس طرف بڑا زور دیا ہے اور حصہ وصیت بتا رہی ہے کہ اس کی غرض یہی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اس بات پر مطلع کر دیا تھا کہ ایسے حالات پیش آ سکتے ہیں جب کہ جماعت سے چندہ حاصل کرنا مشکل ہو جائے۔سُنا ہے ایک سرکاری افسر نے جو سلسلہ کی مخالفت کر رہا تھا دوسرے سے ذکر کیا کہ گورنمنٹ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ جماعت احمدیہ کو چندہ وصول کرنے سے بند کر دیا جائے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، معمولی حالات میں یہ نہیں کیا جا سکتا مگر ہو سکتا ہے کہ کسی وقت کوئی دیوانی گورنمنٹ ایسا کر دے اس لئے مستقل آمد اور مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی آمد کا انتظام کرنا چاہئے کیونکہ ظالم لوگ ہمیشہ سے نبی کی جماعت پر ظلم کرتے آئے ہیں اس لئے اُس جماعت کو مختلف ملکوں میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ مختلف علاقوں میں جائیدادیں بنائیں اور میں نے منافقین کے اعتراضات کے باوجود کئی لاکھ کی جائیداد خریدی ہے اور ابھی لے رہا ہوں اور اسی کی آمد سے اس کی خرید کی رقم ادا کی جا رہی ہے۔امید ہے کہ اس سے زائد آمد بھی ہونے لگ جائے گی۔پس مستقل اخراجات کے لئے ضروری ہے کہ اتنی جائداد ہو جس سے کارکنوں کی تنخواہیں ادا ہو سکیں اور چندہ باقی ہنگامی کاموں کے لئے ہو۔چونکہ مرکز کا قائم رکھنا نہایت ضروری ہے اس لئے پورا زور لگانا چاہئے کہ سلسلہ کی اتنی جائداد پیدا ہو جائے کہ کارکنوں کی تنخواہیں اس سے نکل آ ئیں۔