خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 119
خطابات شوری جلد دوئم ۱۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء چوتھی جو دوست اپنا روپیہ تجارت پر لگانا چاہیں وہ لگا سکتے ہیں اور انہیں کافی منافع مل سکتا ہے۔یہ چار تجویزیں ایسی ہیں کہ اگر جماعت ان پر عمل کرے اور کوئی وجہ نہیں کہ عمل نہ کرے یا اس سے عمل کرایا نہ جائے تو بوجھ دور نہ ہو۔پانچویں تجویز یہ ہے کہ وہ جماعتیں جو موجودہ حالات میں اسے پسند کرتی ہیں، شرح چندہ چار پیسے کی بجائے پانچ پیسے کر دیں اور اس پر عمل شروع کر دیں۔یہ لازمی نہ ہو بلکہ ہر ایک کی مرضی پر ہو۔اس کے لئے تحریک کی جائے کہ اپنی مرضی سے یہ اضافہ کریں اور موصیوں کو تحریک کی جائے کہ زیادہ حصہ کے لئے وصیت کریں۔یہ جبری نہ ہو گا بلکہ اپنی مرضی سے ہو گا۔بے شک ہم جبری طور پر بھی وصیت کا حصہ بڑھا سکتے ہیں اور ہر موصی کے لئے ضروری قرار دے سکتے ہیں مگر اُسی وقت کہ اسلام کی زندگی اور موت کا سوال در پیش ہو، مگر ایسا وقت ابھی نہیں آیا۔پس چندہ کے اضافہ اور حصہ وصیت کے بڑھانے کے متعلق جماعتوں کو تحریک کی جائے اور ناظر پوچھتے رہیں کہ مقامی کارکن اور نمائندگان مجلس مشاورت نے تحریک کی ہے یا نہیں ؟ اور کتنے مخلصین نے پانچ پیسے فی روپیہ چندہ دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے؟ اور وصیت کے حصہ میں اضافہ کرنے والے کتنے ہیں؟ اس کے لئے میں تین سال کی میعاد مقرر کرتا ہوں۔وصیت کے حصہ میں اضافہ کے لئے اور شرح چندہ میں اضافہ کے لئے بھی یعنی جو دوست اس حکم کے ماتحت اضافہ کریں گے وہ تین سال کے بعد پہلی شرح پر وصیت اور چندہ ادا کر سکیں گے۔یہ چھ تجویزیں جماعت کے متعلق ہیں۔انجمن کے کارکنوں کے متعلق میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ ۲۰ یا ۲۵ فیصدی اُن کی تنخواہ کا تمام کارکنوں سے جبری قرضہ لیا جائے۔اگر کوئی ریٹائر ہو جائے تو اُس کو اُس کی رقم فوراً پراویڈنٹ فنڈ کے ساتھ ادا کر دی جائے ورنہ تین سال تک یہ قرض لیا جائے البتہ ۱۵ روپے یا اس سے کم تنخواہ والوں سے کوئی کٹوتی نہ ہو۔اس بارہ میں تخفیف کمیٹی سے مشورہ لیا جائے گا۔اس طرح اڑھائی ہزار کے قریب ماہوار کی بچت ہو جائے گی اور سالانہ ۳۰ ہزار۔ادھر جماعت کے متعلق جو تجاویز میں نے پیش کی ہیں ،ان سے کم از کم ۵۰،۴۰ ہزار کی آمد بھی کر سکیں تو تین سال تک ہم بجٹ کو برابر رکھ سکتے