خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 118

خطابات شوری جلد دوئم ۱۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء ذرائع ہیں کہ اگر روپیہ ہو تو ایسے نفع بخش کام پر لگا دیا جائے کہ روپیہ دینے والے کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔اس کے لئے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انجمن اپنی جائدادیں روپیہ دینے والوں کو گرو کر دے یعنی تجارت پر روپیہ لگانے والے دوست اپنے روپیہ سے انجمن کی بعض جائیدادیں گرو رکھ لیں۔۵۰، ۶۰ ہزار روپیہ اس طرح بھی لگایا جا سکتا ہے اور اتنا ہی روپیہ اور تجارتی کاموں پر لگایا جا سکتا ہے جن پر نفع قریباً یقینی ہے اور دس فیصدی نفع چھ ماہ میں مل سکتا ہے اس طرح بھی انجمن کے بار میں کمی آسکتی ہے۔یہ گویا چار تحریکیں ہیں اگر جماعت ان پر عمل کرے تو بغیر چندہ خاص کرنے کے اور بغیر کسی قسم کا بوجھ ڈالنے کے بلکہ فائدہ اُٹھاتے ہوئے انجمن کا بوجھ اُتار سکتے ہیں۔(۱) جماعت جبری طور پر سمجھ لے کہ انجمن کے خزانہ میں امانت رکھانی ہے۔ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ اگر تھوڑی سی رقم امانت رکھنی ہو اور پھر جلد ہی واپس لینی ہو تو اس طرح اُس کے بھیجنے اور واپس لینے پر بہت خرچ پڑ جائے گا مگر یہ خرچ زیادہ نہ ہوگا ، روپیہ واپس بھیجنے کا خرچ انجمن خود برداشت کر سکتی ہے اور اس طرح بھی نفع میں رہتی ہے۔پھر انجمن مقامی چندہ میں سے رقم ادا کر سکتی ہے۔پس یہ بہت معمولی اور چھوٹی سی بات ہے اگر اس مد میں روپیہ جمع نہ ہوا تو میں یہ نہیں مانوں گا کہ دوستوں کے پاس روپیہ نہیں، بلکہ یہ سمجھوں گا کہ اس طرف توجہ نہیں کی گئی۔۵۰ فیصدی لوگوں کے پاس کچھ نہ کچھ رقم پس انداز ہوتی ہے۔ایک دوست نے لکھا ہے کہ جو رقم کوئی جمع کرائے وہ کسی اور کو نہ بتائی جائے۔یہ ضروری بات ہے، بنک والے بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔وہ حکومت تک کو کسی کی امانتی رقم نہیں بتاتے کیونکہ بتانے سے رقوم رکھنے والوں کو کئی قسم کی دقتیں پیش آسکتی ہیں۔اس بارہ میں یہ قانون ہو گا کہ کسی کی امانتی رقم کا کسی کو علم نہ ہو اور کسی کو کسی کی رقم کے متعلق کچھ نہ بتایا جائے۔اسی کے ماتحت جو صاحب یہ کہیں گے کہ اُن کی رقم مقامی جماعت کی معرفت ادانہ ہوا نہیں انجمن خود بھیجے گی۔دوسری تجویز قرض کی ہے۔تیسری انجمن کی بعض جائیدادیں گرو رکھ کر روپیہ دینے کی اور