خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 117
خطابات شوری جلد دوئم ۱۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء حکمتیں ہیں۔نادان ہے وہ جس کا ذہن ان کی طرف نہیں جاتا۔اگر دوست بے جا شرم چھوڑ دیں اور بے اعتباری چھوڑ دیں تو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اب بے اعتباری کی تو کوئی بات ہی نہیں۔امانت رکھانے والوں کو اب تک کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی اور شرم کی بھی کوئی بات نہیں۔سوائے تجارتی روپیہ کے اگر کسی کے پاس دس ہیں، سو ، دوسو ، ہزار روپیہ جمع ہو تو اس کے لئے جمع کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔یہ روپے ایسے طور پر رکھے جائیں گے کہ کبھی مطالبہ پر دیر نہ ہو۔دوست اگر اس پر عمل کریں تو ان کا کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا لیکن انجمن کو فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن اگر وہ اس کے لئے بھی تیار نہ ہوں جس پر ان کا کچھ خرچ نہیں ہوتا تو پھر ان کے بڑے بڑے دعووں کی کیا حقیقت باقی رہ جاتی ہے؟ میں نے گزشتہ مجلس مشاورت کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ قرضہ کے طور پر انجمن کو روپیہ دیا جائے اور یہ قرض چند ماہ کے لئے ہوگا اس میں گل ۳۱ ہزار کی رقم جمع ہوئی ہے اس میں ایک بیوہ نے بھی پچاس روپیہ کی رقم دی۔تجربہ یہ ہے کہ لوگ کچھ نہ کچھ پس انداز کرتے ہیں۔اگر ایسی رقوم کو وہ امانت کے طور پر رکھا دیں تو اس طرح ایک بڑی رقم جمع ہو سکتی ہے۔اگر جماعت اس کے لئے تیار ہو اور اپنے لئے ضروری قرار دے لے کہ روپیہ امانت میں جمع کرانا ہے تو کامیابی ہو سکتی ہے۔دوسری تجویز یہ ہے کہ ایک لاکھ روپیہ قرضہ کی تحریک کی جائے۔میں اسے منظور کرتا ہوں۔جو لوگ مدت مقرر کر کے قرض کے طور پر رقم دے سکیں دے دیں۔مگر قرضہ کی کوئی ضرورت نہیں رہتی اگر دوست امانت کے طور پر اپنی رقوم جمع کرانے لگ جائیں اور پھر جب چاہیں نکال لیں اس میں کوئی روک نہ ہوگی۔پس میں ایک تحریک یہ کرتا ہوں اور نمائندوں سے اقرار لیتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ہاں جا کر تحریک کریں کہ جس کے پاس روپیہ ہو وہ امانت کے طور پر صدر انجمن کے خزانہ میں جمع کرا دے۔نمائندوں کا یہ خاص فرض ہے کہ جماعتوں میں یہ تحریک کریں اور ایک ماہ کے اندر اندر اطلاع دیں کہ کس قدر اس میں کامیابی ہوئی ہے۔اس تجویز کا دوسرا حصہ قرضہ ہے میں اسے بھی منظور کرتا ہوں۔تیسرا حصہ ایسا ہے جس میں اور بھی سہولت ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ایسے