خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 116

خطابات شوری جلد دوئم ۱۱۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء بیت اللہ کہا جاتا ہے۔غرض دوستوں کے پاس اس قسم کے روپے ہوتے ہیں اور اگر قادیان کے ہی دوست اس طرح امانت رکھانا شروع کر دیں تو ۵۰-۶۰ ہزار روپیہ جمع ہوسکتا ہے اور اگر یہ تحریک جاری کی جائے اور اسے پھیلایا جائے یعنی نہ صرف وہی دوست روپیہ جمع کرائیں جنہوں نے مکان بنانے کی نیت سے کچھ نہ کچھ جمع کیا ہو بلکہ وہ بھی جنہوں نے بچوں کی تعلیم کے لئے یا شادیوں کے لئے یا اور ضروری اغراض کے لئے کیا ہے تو بہت بڑی رقم جمع ہو سکتی ہے اور وہ ضرورت کے لئے واپس لے سکتے ہیں۔یا پھر قرضہ ایک مدت معینہ کے لئے دے دیں یعنی سال کے لئے یا دو سال کے لئے ، پھر اس پر زکوۃ نہیں ہوگی اور اڑھائی فیصدی اس طرح گو یا نقذ نفع بھی مل گیا۔غرض اس طریق پر اگر عمل کیا جائے تو ایک دولاکھ نہیں میں سمجھتا ہوں ۱۰، ۲۰،۱۵ لاکھ روپیہ جمع ہو سکتا ہے اور ان لوگوں کو جو روپیہ جمع کرائیں گے کوئی تکلیف نہ ہو گی ، وہ جب چاہیں اپنا روپیہ مانگ لیں۔ادھر انجمن والوں کو سانس لینے کا موقع مل جائے گا۔غرض نہایت سہولت کے ساتھ یہ رقم جمع ہو سکتی ہے بشرطیکہ دوست بے اعتباری اور بے جا شرم کو چھوڑ دیں۔میں نے قادیان میں ایک مکان بنایا اور اس لئے بنایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی پیشگوئی ہے کہ قادیان مشرق کی طرف بڑھے گا اور اس پیشگوئی کے پورا کرنے میں حصہ لینے کے لئے ضروری ہے کہ مکان بنا ئیں مگر ہم رہتے انہی مکانات میں ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رہتے تھے تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت حاصل ہو مگر میں نے سُنا ہے کہ ایک شخص جس نے خود کئی مکان بنائے ہیں، اعتراض کر رہا تھا کہ تعیش شروع ہو گیا ہے، کئی مکانات بنائے جا رہے ہیں۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر بیوی کے لئے الگ مکان بنایا ہوا تھا اور گیارہ مکان آپ کے ثابت ہیں۔مجھے خیال آیا کہ اعتراض کرنے والے کو لا کر اُس کمرہ میں رکھوں جس میں ہم رہتے ہیں تو جگہ کی تنگی کی وجہ سے چلانے لگ جائے۔تو مکان بنانا جُرم نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے وَسِعُ مَكَانَكَ " اس میں بہت سی