خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 88

خطابات شوری جلد دوم ۸۸ مجلس مشا مشاورت ۱۹۳۶ء ماں بچہ کو اُٹھاتے وقت یہ احتیاط کرتی ہے تو سمجھ لو قدوس خدا نجس انسان کو اٹھاتے وقت کتنی احتیاط کرے گا۔پس وہ بھی صفائی کرنا چاہتا ہے۔اس کے متعلق فرماتا ہے۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ المُجْهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّبِرِينَ ، وَنَبْلُوا اخْبارَكُمْ کہ اے مومنو! ہمارے اندر تمہاری محبت ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ تمہیں اپنے قریب کریں لیکن چونکہ ہماری ذات مقدس ہے اس لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ تمہیں نجاست تو نہیں لگی ہوئی تا کہ اسے جھاڑ کر تمہیں اپنی گود میں اٹھا لیں۔پس جب ہم تمہیں جھاڑیں تو گھبرانا نہیں۔اس کی صورت یہ ہوگی کہ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ۔ہم تمہارا امتحان لیں گے، تمہاری آزمائش کریں گے۔حتى تعلم المُجْهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّبِرِيین یہاں تک کہ ہم جان لیں اور دنیا پر یہ کھل جائے اور روشن ہو جائے کہ تم میں سے کون مجاہد ہے اور کون صابر۔مومن کے دو درجے خدا تعالیٰ نے مومن کے دو درجے بتائے ہیں۔ایک مجاہد اور دوسرا صابر۔پہلا درجہ مجاہد ہے اور دوسرا صابر۔مجاہد کے معنے ہیں خدمت کرنے والا، قربانی کرنے والا۔فرمایا جب تک یہ پتہ نہ لگے کہ تم خدمت کرنے والے اور قربانی کرنے والے ہو ہم تمہیں اُٹھا نہیں سکتے۔جیسا کہ جماعت سے مطالبے کئے گئے ہیں کہ خاص چندے دو، تبلیغ کرو، اپنی روحانی اور اخلاقی اصلاح کرو۔ان مطالبات کو پورا کرنے والے مجاہد ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مومن کے لئے پہلا امتحان یہ ہے کہ اپنے آپ کو مجاہد ثابت کر سکے اور اس طرح خدا تعالیٰ کے قریب ہو جائے۔مگر یہ تحرب عارضی ہوتا ہے کچھ دیر گود میں بٹھایا جاتا ہے اور پھر اُٹھا دیا جاتا ہے لیکن ایک قرب وہ ہوتا ہے جو مستقل ہوتا ہے۔وہ صابر کا قرب ہوتا ہے۔صابر کے معنی ہیں ایک بات پر قائم ہو جانے والا یعنی جو نیکیاں بھی اختیار کرے وہ اُس کی جزو بدن بن جائیں، اُس سے الگ نہ ہوسکیں۔صابر بننے کے بعد ہر وقت خدا تعالیٰ اس کے ساتھ رہتا ہے۔جس طرح یہ مجاہدہ میں مستقل رہ کر صابر بنتا ہے خدا تعالیٰ بھی اُسے مستقل جلوہ دکھاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا عجیب نقشہ کھینچا ہے۔ایک کاپی پر آپ کا لکھا ہوا ایک نوٹ تھا جس میں لکھا تھا۔دنیا مجھ سے چاہتی ہے کہ میں خدا تعالیٰ کو چھوڑ دوں اور سب لوگ کوشش کرتے ہیں کہ میں اُس سے الگ ہو جاؤں مگر یہ کس طرح ہو