خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 89
۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء خطابات شوری جلد دوم سکتا ہے۔جب سارے کے سارے لوگ مجھے چھوڑ کر الگ ہو جاتے ہیں اور سب دنیا سو رہی ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ میرے پاس آتا ہے اور مجھے اپنا جلوہ دکھاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔پس وہ خدا جو مصائب کے اندھیروں اور مصیبتوں کی تاریکیوں میں میرا ساتھ نہیں چھوڑتا اُسے میں کس طرح چھوڑ دوں۔مجاہد اور صابر میں فرق یہ صابرین کا حال ہوتا ہے کہ جو نیکی اختیار کی اُس پر قائم ہو گئے۔یہ نہیں کہ کبھی چندہ دیا کبھی نہ دیا، کبھی تبلیغ کی کبھی نہ کی، ہے یہ مجاہد کا حال تو ہو سکتا ہے صابر کا نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَنَبْلُوا أَحْبَارَكُمْ۔پھر ہم ظاہر کر دیں گے تمہارے اخبار کو۔خبر کے معنی ہیں وہ بات جو کسی چیز کے متعلق پھیل جائے۔اور خبر محاورہ میں اُسے بھی کہتے ہیں جو مستقل بات ہو کیونکہ کسی کے متعلق وہی بات پھیلتی۔جس پر وہ مستقل طور پر قائم ہو اس لئے خبر محاورہ کے طور پر مستقل اخلاق کو بھی کہہ سکتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم تمہارے پوشیدہ اخلاق کو اس طرح تمہارے جسم پر جاری کر دیں گے کہ لوگوں میں ان اخلاق کی وجہ سے تمہارے خاص نام پڑ جائیں گے۔جیسے حاتم اور رستم وغیرہ کو سخاوت اور شجاعت کے نام مل گئے ہیں یا جیسے مذہبی دنیا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام امین اور صدوق بعثت سے پہلے مشہور ہو گیا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعویٰ کیا تو آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرما یا بتاؤ کبھی میں نے جھوٹ بولا ؟ سب نے کہا نہیں۔گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قدر صداقت کا اظہار کیا کہ دشمن کو بھی اس کا اقرار کرنے کے سوا چارہ نہ رہا۔تو فرمایا دنیا میں اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے تمہیں شہرت دی جائے گی۔سب لوگ کہیں گے یہ بڑے غریب پرور، بڑے رحم دل، بڑے عادل اور بڑے راست باز ہیں۔خدا کی راہ میں بڑی فراخ دلی سے خرچ کرتے اور نیکی کے کام بڑے جوش سے کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی جماعت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا آگے فرمایا۔ان ان نيت كَفَرُوا وصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللهِ وَ شَاقُوا الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى " لَن يَضُرُّوا اللهَ شَيْئًا وسَيُخيطُ اعْمَالَهُمْ۔مذکورہ بالا جماعت کے خلاف جو لوگ ہماری باتوں کو رڈ کریں