خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 87

خطابات شوری جلد دوم ۸۷ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء جائداد کی شکل میں ادا کر دینے کا وعدہ ہے ان کا مال پھر ان کو مل جائے گا۔مگر دوستوں کو پھر اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس میں بہر حال فائدہ ہے اور نقصان کی کوئی صورت نہیں اور ثواب مزید برآں ہے۔قادیان کی ترقی دشمن کے ضعف کا باعث ہوگی اور اس میں حصہ لینے والوں کو ثواب ہوگا نیز ان کا روپیہ جمع ہوتا رہے گا ممکن ہے کہ اس سے کچھ زیادہ ہی واپس ملے۔ہمارے ہر کام میں سنجیدگی، اس کے بعد میں پھر جماعت کو ان چند آیات کی طرف جو میں نے اس وقت پڑھی ہیں توجہ دلاتا متانت اور استقلال ہونا چاہئے ہوں۔میں نے کل بھی کہا تھا کہ ہمارے ہر ایک کام میں سنجیدگی ، متانت اور استقلال ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مومن کے لئے اللہ کا کلام حَبلُ اللہ ہوتا ہے اور باتوں کو تو جانے دیں اگر کسی کا ہاتھ گورنر کے ہاتھ میں ہو یا اُس کا ہاتھ وائسرائے کے ہاتھ میں ہو یا اُس کا ہاتھ بادشاہ کے ہاتھ میں ہو تو اُس کی باتوں میں کتنی متانت اور سنجیدگی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ رسول کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ ایسا ہی ہے کہ گویا تم نے خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کی۔گویا خدا تعالی بیعت کو خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دینا قرار دیتا ہے اور کلام اللہ کو حَبلُ اللہ کہتا ہے۔ایسی صورت میں کیسی سنجیدگی اور کتنا وقار مومن میں ہونا چاہئے۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ دنیا کو فتح اللہ تعالیٰ مومن کا امتحان لیتا ہے کرنے اور دنیا میں صداقت پھیلانے کے ارادوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی یا درکھیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ دیئے ہیں اور دوسروں میں اور ان میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ایک چھوٹا بچہ جب ہاتھ اُٹھا کر کسی بڑے انسان سے کہتا ہے کہ میں چپیڑ ماروں گا تو وہ مسکراتا ہے کہ کیا بیہودہ بات کہتا ہے۔اسی طرح مومن کے خلاف جب دنیا کہتی ہے کہ اسے مٹا دیا جائے گا تو وہ اسے بچہ سے بھی حقیر ہستی سمجھتا ہے۔پس یہ روح اور یہ معرفت ہونی چاہئے اور اس معرفت کے لئے اللہ تعالیٰ امتحان لیتا ہے۔دیکھو! ماں جب بچہ کو اٹھانے لگتی ہے تو دیکھ لیتی ہے کہ اس نے پاخانہ تو نہیں کیا ہوا ؟ اگر کیا ہو تو صاف کر لیتی ہے یا گرد اور مٹی لگی ہو تو اُسے جھاڑ دیتی ہے۔اگر